
میں پہلے اہلِ سنت تھا، اور جب میں نے کئی تاریخی کتابیں پڑھیں تو میری شیعہ مسلک کے بارے میں سمجھ میں اضافہ ہوا۔
انجینئر احمد طہ، جو اردن میں شیعہ برادری کے رکن ہیں، کہتے ہیں:
"میں اپنی زندگی دو حصوں میں جیتا ہوں۔ میرے خاندان کے سوا کوئی میرے شیعہ ہونے کو قبول نہیں کرتا اور میں اپنے مذہبی عقیدے کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں صرف اپنے گھر میں محفوظ محسوس کرتا ہوں، اور گھر سے باہر ایک مختلف شخصیت بن جاتا ہوں۔”
احمد طہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 1970 کی دہائی میں تشیع قبول کیا تھا اور وہ مکتبِ اثنا عشری کے پیروکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
"یونیورسٹی کی زندگی میں مجھے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ساتھی طلباء کی طرف سے دھمکیاں اور ہراسانی شامل تھیں۔ ایک مرتبہ مجھے مارا پیٹا گیا، اور مجھے فیس بک پر اپنے عقائد سے دستبرداری کا اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا۔ میں نے اپنے خاندان اور مستقبل کے خوف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔”
وہ مزید کہتے ہیں:
"میں اردن میں شادی نہیں کر سکا۔ ہماری روایت ہے کہ ہم دولہے کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، اس لیے لوگوں کے لیے یہ جاننا آسان تھا کہ میں شیعہ ہوں، اور اسی بنیاد پر مجھے کئی بار رد کیا گیا۔ آخرکار مجھے اردن چھوڑنا پڑا اور بیرونِ ملک شادی کرنا پڑی۔ آج مجھے خوف ہے اور میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔ میرا ڈر یہ ہے کہ شیعہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ ان کو قبول نہیں کرے گا اور انہیں مسترد کر دے گا۔”
وہ کہتے ہیں:
"میں پہلے اہل سنت تھا، اور جب میں نے کئی تاریخی کتابیں پڑھیں تو میری شیعہ مسلک کے بارے میں سمجھ میں اضافہ ہوا۔ کچھ وقت بعد میں نے اثنا عشری مسلک اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے خاندان نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھے رد کر دیا۔”
جولائی 9 2025
انجینئر "احمد طہ”، ایک اردنی مستبصر
میں پہلے اہلِ سنت تھا، اور جب میں نے کئی تاریخی کتابیں پڑھیں تو میری شیعہ مسلک کے بارے میں سمجھ میں اضافہ ہوا۔
انجینئر احمد طہ، جو اردن میں شیعہ برادری کے رکن ہیں، کہتے ہیں:
"میں اپنی زندگی دو حصوں میں جیتا ہوں۔ میرے خاندان کے سوا کوئی میرے شیعہ ہونے کو قبول نہیں کرتا اور میں اپنے مذہبی عقیدے کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں صرف اپنے گھر میں محفوظ محسوس کرتا ہوں، اور گھر سے باہر ایک مختلف شخصیت بن جاتا ہوں۔”
احمد طہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 1970 کی دہائی میں تشیع قبول کیا تھا اور وہ مکتبِ اثنا عشری کے پیروکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
"یونیورسٹی کی زندگی میں مجھے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ساتھی طلباء کی طرف سے دھمکیاں اور ہراسانی شامل تھیں۔ ایک مرتبہ مجھے مارا پیٹا گیا، اور مجھے فیس بک پر اپنے عقائد سے دستبرداری کا اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا۔ میں نے اپنے خاندان اور مستقبل کے خوف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔”
وہ مزید کہتے ہیں:
"میں اردن میں شادی نہیں کر سکا۔ ہماری روایت ہے کہ ہم دولہے کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، اس لیے لوگوں کے لیے یہ جاننا آسان تھا کہ میں شیعہ ہوں، اور اسی بنیاد پر مجھے کئی بار رد کیا گیا۔ آخرکار مجھے اردن چھوڑنا پڑا اور بیرونِ ملک شادی کرنا پڑی۔ آج مجھے خوف ہے اور میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔ میرا ڈر یہ ہے کہ شیعہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ ان کو قبول نہیں کرے گا اور انہیں مسترد کر دے گا۔”
وہ کہتے ہیں:
"میں پہلے اہل سنت تھا، اور جب میں نے کئی تاریخی کتابیں پڑھیں تو میری شیعہ مسلک کے بارے میں سمجھ میں اضافہ ہوا۔ کچھ وقت بعد میں نے اثنا عشری مسلک اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے خاندان نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھے رد کر دیا۔”
By urdu • مستبصرین میگزین • 0 • Tags: Converted to Islam, converted to Shia, احمد طہ, انجینئر, شیعه شدگان, شیعہ مسلک, مستبصرین