عالم مجوس سے مناظرہ

 

مجوسی یعنی آتش پرست، مطلب آگ کی پرستش یا پوجا کرنے والا اور زرتشت نامی مذہب سے بھی معروف ہیں۔

آتش پرستوں کا ایک مشہور عالم امام علی بن موسی الرضا علیه السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر علمی گفتگو کرنے لگا، امام رضا نے اس کے سوالات کے مکمل جوابات عنایت فرمائے اس کے بعد آپ نے اس سے سوال کیا کہ تمہارے پاس زرتشت کی نبوت کی کیا دلیل ہے؟

اس نے کہا کہ انہوں نے ہماری ایسی چیزوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے رہنمائی نہیں کی تھی، ہمارے اسلاف کہا کرتے تھے کہ زرتشت نے ہمارے لیے وہ امور مباح کیے ہیں کہ ان سے پہلے کسی نے نہیں کیے تھے۔

امام علی بن موسی الرضا علیه السلام نے فرمایا؛ تم کو اس امر میں کیا عذر ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی نبی اور رسول کے فضائل اور کمالات تم پر روشن کرے اور تم اس کے ماننے میں پس و پیش کرو، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم نے معتبر لوگوں سے سن کر زرتشت کی نبوت قبول کرلی اسی طرح معتبر لوگوں سے سن کر انبیاء اور رسل کی نبوت ماننے میں تمہیں کیا عذر ہو سکتا ہے؟

یہ سن کر وہ مجوسی خاموش ہوگیا