شیخ سانکو محمدی، فرانسیسی سنی مفتی: میں شیعہ اس لیے بنا کہ مجھے کربلا کا علم ہوا۔

 

مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میں آج تک شیعہ کو نہیں جانتا تھا، جب میں 68 سال کا ہوں، اور میں بہت خوش ہوں۔ اس سے پہلے میں نے مدینہ کے سفر کے دوران عراق میں شیعوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے اہل بیت سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کو ہم سے چھپا رکھا تھا، لیکن آج میں نے انہیں دریافت کر لیا۔

ایک فرانسیسی سنی مفتی، مسجد کے امام اور مذہبی امور کے مشیر “شیخ سانکو محمدی” نے عراق کا دورہ کرنے کے بعد شہداء کے جشن بہاراں میں شرکت کرنے اور “حجۃ الاسلام ولید البعاج” سے ملاقات کے بعد شیعہ مذہب اختیار کر لیا۔

انہوں نے ایک تقریر میں کہا: مجھے یقین نہیں تھا کہ کربلا اور شیعہ ایسے ہوتے ہیں، جب میں نے کربلا آنے کا فیصلہ کیا تو میرے گھر والوں نے مجھے روکا اور کہا: عراق ایک میدان جنگ ہے، بہت سے اعتراضات کے باوجود میں تحقیق کے لیے عراق آیا۔

انہوں نے مزید کہا: میں نے کربلا میں شیعوں سے واقفیت حاصل کی جسے میں پہلے نہیں جانتا تھا، میں اندھیروں سے روشنی کی طرف گیا اور اب میں اپنے آپ کو آزاد دیکھ رہا ہوں۔

شیخ محمدی نے کہا: مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میں آج تک شیعہ کو نہیں جانتا تھا، جب کہ میری عمر 68 سال ہے، اور میں اب سے بہت خوش ہوں، میں شیعہ سپاہیوں میں سے ہوں اور دنیا کو شیعہ سے متعارف کروا رہا ہوں، اور یہ بات میری طرف سے سیستانی صاحب کو بتائیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس سے پہلے میں نے مدینہ منورہ کا سفر کیا لیکن جس حد تک میں نے عراق میں شیعوں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کو ہم سے چھپا رکھا تھا، لیکن آج میں نے انہیں دریافت کر لیا۔

شیخ سانکو کا تعلق اصل میں کیمرون سے ہے لیکن وہ 43 سال سے فرانس میں مقیم ہیں اور انہیں فرانسیسی شہری سمجھا جاتا ہے اور وہ اس ملک میں مساجد کی تعمیر کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔