جنوبی افریقہ کے سنی عالم دین نے ۱۲۱ افراد کے ہمراہ شیعہ مذہب قبول کر لیا

جنوبی افریقہ کے شیعہ پورٹ الزبتھ سے تعلق رکھنے والے اہل سنت کے عالم دین مولانا ابراہیم محمد نے حالیہ دنوں اہل بیت اطہار(ع) کے مذہب کو اپناتے ہوئے اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے اور خادمین حرمین کی جانب سے اس کے پرتپاک استقبال میں پیش کئے گئے غیر اسلامی کردار کے بعد جہاں دنیا کے اکثر مسلمان اس ملک سے متنفر ہوئے ہیں وہاں کئی اہل سنت نے اپنے مذہب کو چھوڑ کر شیعہ مذہب اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق، جنوبی افریقہ کے شیعہ پورٹ الزبتھ سے تعلق رکھنے والے اہل سنت کے عالم دین مولانا ابراہیم محمد کہ جنہوں نے ۸ سالہ مصر کی یونیورسٹی الازہر اور ایک سال مکہ مکرمہ میں دینی تعلیم حاصل کی نے حالیہ دنوں اہل بیت اطہار(ع) کے مذہب کو اپناتے ہوئے اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، مولانا ابراہیم محمد شہر پورٹ الزبتھ میں بیس سال سے اہل سنت کی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے ان کے شیعہ ہونے کے ساتھ ساتھ مزید ۱۲۱ افراد نے بھی مذہب حقہ کو قبول کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مولانا موصوف نے گزشتہ شب ڈربن کی شیعہ مسجد امام حسین(ع) کا دورہ کرتے ہوئے مسجد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کیا اور مذہب اہل بیت(ع) کو قبول کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈالی جبکہ مسجد امام حسین(ع) کے امام راتب حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا حسین عباس ترابی سے ملاقات اور گفتگو بھی کی۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں ہزاروں ایسے مسلمان بشمولیت علمائے دین پائے جاتے ہیں جو باطنا شیعہ مذہب کے قائل ہو چکے ہیں لیکن بظاہر کسی مناسبت وقت کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ کھلے عام پیروان اہل بیت(ع) کی صف میں شمولیت کا اعلان کر سکیں۔