ولادت باسعادت حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) مبارک ہو

 

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

کریمۂ اہل بیت (س) کےمختصرحالات زندگی

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے . انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے. !

والدین ماجدین

آپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں۔ (1)

ولادت تا ہجرت

حضرت معصومه سلام الله علیها  نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ میں مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ (3) یا بارہ۱۲ (4) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کہہ دیا۔

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہی سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں والدین اور بہن اور بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے۔ عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے۔

علم و دانش کا سرچشمہ

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوی اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا۔ جب آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ(ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے۔

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: “ابوالحسن موسی المعروف (کاظم)۔ کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے”۔

اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے اونچا ہے۔ یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں ائمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے۔ اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند (عالمہ غیر مُعَلَّمہ)۔ ہیں۔ ( عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے)

فضائل کا مظہر

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا فضائل و مراتب و مقامات عالیہ کا مظہر ہیں۔ معصومین کی روایات آپ سلام اللہ علیہا کے لئے نہایت اونچے مقامات و مراتب کی دلیل ہیں۔

روى القاضى نور اللّه عن الصادق عليه السلام قال:

ان للّه حرماً و هو مكة ألا انَّ لرسول اللّه حرماً و هو المدينة ألا و ان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة باجمعهم۔

قاضی نور الله رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: “جان لو کہ خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے؛ اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے؛ اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے۔ جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں۔ میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون ۔ جن کا نام فاطمہ ہے ۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے”۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی مقام

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عالم تشیع کی نہایت گرانقدر اور والا مقام خاتون ہیں جن کا علمی مقام بہت اونچا ہے۔

روایت ہے کہ ایک روز شیعیان محمد و آل محمد(ص) کا ایک گروہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ملاقات کے لئے مدینہ منورہ مشرف ہؤا۔ چونکہ امام علیہ السلام سفر پر تشریف لے گئے تھے اور یہ لوگ آپ(ع) سے سوالات پوچھنے آئے تھے لہذا انھوں نے اپنے سوالات حضرت فاطمہ معصومہ کے سپرد کئے ۔ جو ابھی نوعمر بچی ہی تھیں ۔ یہ لوگ دوسرے روز ایک بار پھرامام علیہ السلام کی در گاہ پر حاضر ہوئے مگر امام(ع) ابھی  واپس تشریف فرما نہيں ہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے اپنے سوالات واپس مانگے۔ مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ سیدہ معصومہ نے ان کے جوابات بھی تحریر کر رکھے تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنے سوالات کے جوابات کا مشاہدہ کیا، بہت خوش ہوئے اور نہایت تشکر اور امتنان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اتفاق سے راستے میں ہی ان کا سامنا امام موسی کاظم علیہ السلام سے ہؤا اور انھوں نے اپنا ماجرا امام علیہ السلام کو کہہ سنایا۔ امام(ع) نے سوالات اور جوابات کا مطالعہ کیا اور فرمایا: باپ اس پر فدا ہو ـ باپ اس پر فدا ہو ـ باپ اس پر فدا ہو۔

 

قم کی تقدس کا راز

متعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے۔ امام صادق(ع) نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے:۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

“الا انَّ حرمى و حرم ولدى بعدى قم”۔ (5)

آگاہ رہو کہ میرا حرم اور میرے بعد آنے والے پیشواؤں کا حرم قم ہے۔

امام صادق علیہ السلام ہی اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“وان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفة الا وانَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم”۔

“اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے۔ جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں”۔

امام علیہ السلام قم کے تقدس کی سلسلے میں اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

“… تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم”۔

“میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون ۔ جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے”۔

راوی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی۔ یہ حدیث قم کی قداست کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف ۔ جو روایات سے ثابت ہے ـ ریحانۃ الرسول(ص)، کریمۂ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پاکر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا ہے۔

سیده نے بهی قم کا انتخاب کیا

امام رضا علیہ السلام کے مجبوراً شہر مرو کی طرے سفر کرنے کے ایک سال بعد سنہ ۲۰۱ھ  میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے مقصد سے عازم سفر ہوئیں راستے میں ساوہ پہنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہل بیت کے مخالف تھے لہٰذا انھوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑ دی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے۔ (6)

سیدہ غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور ایک روایت کے مطابق ساوه میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا (7) جس کی وجه سے آپ(س) بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جاسکیں گی اور زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا: مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔ (8) اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں۔

دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات، ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے کہ سیدہ معصومہ(س) بهی عباسی جلادوں کے حکم پر مسموم کی گئی تھیں۔

بزرگان قم جب اس پر مسرت خبر سے مطلع ہوئے تو سیدہ کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، موسیٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ(س) اہل قم کے عشق اہل بیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں۔ موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا۔ (9)

غروب غمگین

سیدہ مکرمہ نے ۱۷ دن اس شہر امامت و ولایت میں گذارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لئے بے قرار روح قفس خاکی سے سوئے افلاک پرواز کرگئی۔ سیده دعوت حق کو لبیک کہہ کر عاشقان امامت و ولایت کو سوگوار کرگئیں۔

یہ سنہ 201 ہجری کا واقعہ ہے۔

 

سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک۔

سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی۔

سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ(س)، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی، دختر سرداران جوانان جنت پر۔

اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں۔

ہاں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کردی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کا نقاب نوچ لیا۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ(س) جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو؟

آپ(س) نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ”انی استصغرک“ (10) میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں۔

تدفین کی رسومات

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا۔ کفن پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی۔ لیکن دفن کے وقت مَحرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے۔ آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ اس عظیم کام کو انجام دیں، لیکن وہ بزرگ اور دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت(س) کے جنازے کو ہر کوئی سپرد خاک نہیں کرسکتا تھا۔ لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگاہ لوگوں نے دو سواروں کو آتے ہوئے دیکھا وہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے تھے۔ جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پھنچے تو نیچے اترے اور کچھ کہے سنے بغیر نماز جنازہ پڑھی اور اس ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسد اطہر کو داخل سرداب دفن کردیا۔ اور کسی سے گفتگو کئے بغیر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا۔ (11)

حضرت آیة اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی(رہ) فرماتے ہیں کہ بہ امر بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لئے قم تشریف لائے اور چلے گئے۔

سیدہ معصومہ(س) کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا۔ مگر حضرت زینب بنت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام قم تشریف لائیں تو انھوں نے مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا۔ (12)

زیارت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا روایات کے منظر سے

دعا اور زیارت گوشہ تنہائی سے پر کھول کر لقاء اللہ تک عروج کرنے کا نام ہے۔ خالص معنویت کے شفاف چشمے کے آب خوشگوار سے بھرا ہؤا شفاف جام ہے؛ اور حضرت معصومہ کے حرم کی زیارت زمانے کی غبار آلود فضا میں امید کی کرن ہے، غفلت اور بے خبری کے بھنور میں غوطہ کھانے والی روح کی فریاد ہے اور بہشت کے بوستانوں سے اٹھی ہوئی فرح بخش نسیم ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے مرقد منور کی زیارت انسان کو خوداعتمادی کا درس دیتی ہے، ناامیدی کی گرداب میں ڈوبنے سے بچا دیتی ہے اور اس کو مزید ہمت و محنت کی دعوت دیتی ہے۔ کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے مزار کی زیارت موجب بنتی ہے کہ زائر خود کو خداوند صمد کے سامنے نیازمند اور محتاج پائے، خدا کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرے، غرور و تکبر کی سواری ۔ جو تمام بدبختیوں اور شقاوتوں کا موجب ہے ۔ سے نیچے اتر آئے اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے۔ اسی وجہ سے آپ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لئے عظیم انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں ائمہ معصومین سے متعدد احادیث و روایت نقل ہوئی ہیں۔

1ـ قم کے نامور محدث (سعد ابن سعد)۔ کہتے ہیں کہ: “میں امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہؤا تو امام ہشتم علیہ السلام نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “اے سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے۔ میں نے عرض کیا: میری جان آپ پر فدا ہو کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر کے مزار کی بات کررہے ہیں؟

فرمایا:

{من زارها فله الجنّة}۔ (13)

“جو شخص ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے”۔

2ـ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

{من زارها عارفاً بحقّها فله الجنة}۔ (14)

“جو کوئی ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے”۔ اور ایک اور حدیث میں ہے کہ: ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے”۔

3 ۔ نیز فرمایا:

{انّ زيارتها تعدل الجنّة}۔

“بتحقیق ان کی زیارت جنت کے برابر ہے”۔

4 ۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

{من زار المعصومة عارفاً بحقّها فله الجنّة}۔ (15)

“جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے”۔

5 ۔ نیز فرمایا:

{من زار المعصومة بقم کمن زارني}۔

“جو شخص قم میں حضرت معصومہ(س) کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے”۔

6ـ ابن الرضا امام محمد تقی الجواد علیہ السلام نے فرمایا:

 

{من زار قبر عمّتي بقم فله الجنة}۔ (16)

“جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے”۔ 7۔ ایک مؤمن امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہؤا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا۔ سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

“کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے گذرتے اور میری ہمشیرہ کی زیارت کرتے؟”۔

8۔ مولی حیدر خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

“جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آ سکے رے میں میرے بهائی (حمزه) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا”۔ (17)

امام رضا(ع) اور لقب (معصومہ)۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا جنتی خاتون، عبادت اور خدا کی ساتھ راز و نیاز میں ڈوبی ہوئی، بدیوں سے پاک اور عالم خلقت کا شبنم ہیں۔ شاید اس بی بی کو لقب (معصومہ)۔ اسی لئے ملا ہے کہ ماں زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت آپ(س) کے وجود میں جلوہ گر ہوگئی تھی۔ بعض روایات کے مطابق یہ لقب حضرت رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرہ مطہرہ کو عطا فرمایا تھا۔ جیسا کہ بلند اندیش اور سفید سیرت شیعہ فقیہ علامہ محمد باقر مجلسی (رہ) روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

{مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى}۔ (23)

“جو شخص قم میں حضرت معصومہ(س) کی زیارت کرے، گویا کہ اس نے میری زیارت کی ہے”۔

کریمة اہل بیت علیہم السلام

یہ لقب امام معصوم کی جانب سے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو عطا ہؤا ہے جو آپ(س) کی مرتبت کی بلندی پر دلالت کرتا ہے۔

انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا سکتا ہے، یہ ذات اقدس الہی کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

{انا اقول للشيء کن فيکون اطعني فيما امرتک اجعلک تقول للشيء کن فيکون}۔ (24)

“اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا! پس وہ وجود میں آجا تی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل؛ میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی”۔

امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا:

{العبودية جوھرية کنهها الريوبية}۔ (25)

“یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے”۔

اولیائے خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی اس با برکت عارضی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی کرامات و عنایات کا منشأ ہیں۔ اور یه سب ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے۔

آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے ہی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کے فضل و کرم سے پر امید ہوئے، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے؛ اور کتنے ٹهکرائے ہوئے اس در پر آکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہوکر لوٹے ہیں اور اولیائے حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کے فیض و کرم کے منبع بےکراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں که سیده معصومہ(س) کریمہ اہل بیت(ع)ہیں۔

اب ہم دیکهتے ہیں که کریمہ اہل بیت علیہم السلام کا لقب کس طرح ظاہر ہؤا؟۔

یه لقب در حقیقت ایک معاصر بزرگ مرجع تقلید کے والد بزرگوار کی رؤیائے صادقہ کے ذریعے ظاہر ہؤا ہے۔ خواب کچھ یوں ہے:

آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی(رہ) کے والد ماجد مرحوم آيت اللّہ سيّد محمود مرعشى نجفى(رہ)، حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر شریف کا مقام معلوم کرنے کی سعی وافر کررہے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک مجرب ختم کا تعین کیا تا کہ اس طرح معلوم ہوجائے کہ ام ابیھا سلام اللہ علیہا کی گمشدہ قبر کہاں ہے؟ چالیس راتیں انھوں نے اپنا ذکر جاری رکھا۔ چالیسویں شب انھوں نے ختم مکمل کرلی اور دعا و توسل بسیار کے بعد آرام کرنے لگے تو آنکھ لگتے ہی عالم خواب میں حضرت امام محمد باقر(ع) يا حضرت امام جعفر صادق(ع) کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔

امام علیہ السلام نے انہیں فرمایا:

{عَلَيْكَ بِكَرِيمَةِ اَھل ِ الْبَيتِ}۔

“یعنی کریمہ اہل بیت کی زیارت کی پابندی کرو”۔

انھوں نے سوچا کہ گویا امام علیہ السلام حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی زیارت کی سفارش کررہے ہیں۔ چنانچہ عرض کیا:

“میں آپ پر قربان جاؤں میں نے ختم کا چلہ اسی لئے کاٹا ہے کہ میں حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی قبرکے صحیح مقام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قبر شریف ہے۔

پھر حضرت(ع) نے مزید فرمایا:

بعض مصلحتوں کی بنا پر خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہرا(س) کی قبر شریف مخفی ہی رہے۔ اگر مشیت الہی یہ ہوتی کہ سیدہ فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا کی قبر ظاہر ہو، تو خدا کی طرف سے اس کے لئے جو جلال و جبروت مقدر ہوتی وہی جلال و جبروت خدا نے حضرت معصومہ کے لئے مقدر کر رکھی ہے”۔

آیت اللہ مرعشى نجفى جاگ اٹھے تو فورا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی غرض سے قم روانہ ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ نجف سے قم تشریف لائے”۔ (26)

اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا (کریمہ اہل بیت)۔ کے لقب سے مشہور ہیں۔

دیگر القاب:

سیدہ معصومہ(س) کے دو زیارتناموں میں جو اسماء و القاب بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:

طاہرہ (پاک و پاکیزہ)۔

1.حمیدہ (جس کی ستائش اور تعریف ہوئی ہے)۔

2.بِرّہ (نیکوکار)۔

3.رشیدہ (ہدایت یافتہ و عاقلہ)۔

4.تقَیہ (پرہیزگار)۔

5.رضّیہ (خدا سے راضی)۔

6.مرضیّہ (ان سے خدا راضی و خوشنود ہے)۔

7.سیدہ صدیقہ (بہت زیادہ سچی خاتون)۔

8.سیدہ رضیّہ مرضّیہ وہ خاتون جو خدا سے راضی ہیں اور خدا بھی ان سے راضی و خوشنود ہے۔

 

شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

بے شک شفاعت کا والاترین اور بالاترین مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قراردیا گیا۔ (27)

اسی طرح خاندان احمد مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو خواتین کے لئے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں۔

یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ حضرت ام الحسنین علیہا السلام کا مقام شفاعت جاننے کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ(س) کا حق مہر ہے اور جب بحکم آلہی آپ(ع) کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہورہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہؤا شادی کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  کے حوالے کیا۔ وہ تحفہ ایک ریشمی کپڑا تھا جس پر تحریر تھا:

“امت محمد(ص) کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہراء(س) کا حق مہر قرار دیا”۔

یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے۔

سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

“جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون ۔ جن کا نام فاطمہ ہے ۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے”۔

حضرت امام رضا(ع) سے حضرت معصومہ(س) کی محبت

عرصہ 25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے اکلوتے فرزند تھے۔ اور 25 سال بعد نجمہ خاتون(س) کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہؤا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ امام علیہ السلام نے اپنے والاترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ مین ودیعت رکھ لیں۔ یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران ۔ جس میں سیدہ معصومہ(س) کا بھی کردار ہے ۔ جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے:

“آپ کون ہیں؟۔

تو آپ(س) جواب دیتی ہیں:

“میں معصومہ ہوں امام رضا(ع) کی ہمشیرہ”۔

سیدہ(س) کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ(ع) اپنے بھائی سے حد درجہ محبت کرتی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ(س) امام رضا(ع) کو اپنی شناخت کی علامت سمجھتی تھیں اور امام(ع) کی بہن ہونے کو اپنے لئے اعزاز اور باعث فخر سمجھتی تھیں۔

خواتین کی سرور

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا انفرادی اور ذاتی شخصیت و روحانی کمالات کے لحاظ سے امام موسی بن جعفر(ع) کی اولاد میں علی بن موسی الرضا(ع) کے بعد دوسرے درجے پر فائز تھیں۔ بالفاظ دیگر اپنے بھائی بہنوں میں آپ(س) کا درجہ امام رضا(ع) کے بعد دوسرا تھا۔ رجالی منابع کے حوالے سے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی 18 بیٹیاں تھیں اور حضرت معصومہ سب کی سرور تھیں یہی نہیں بلکہ بھائیوں میں بھی امام رضا کے بعد کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔

محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) امام کاظم(ع) کی بیٹیوں کے بارے میں لکھتے ہیں: جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب سے افضل و برتر سیدہ جلیلہ حضرت فاطمہ بنت امام موسی بن جعفر(ع) ہیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1ـ دلائل الامامہ ص/ ۳۰۹۔

3ـ وسیلہ المعصومہ بنقل نزھة الابرار۔

4ـ مستدرک سفینة البحار ج/ ۸ ص/ ۲۵۷۔

5ـ بحارالانوار ج ٦٠ صفحه ٢١٦۔

6ـ زندگانی حضرت معصومہ / آقائے منصوری: ص/ ۱۴، بنقل از ریاض الانساب تالیف ملک الکتاب شیرازی۔

7ـ وسیلة المعصومیہ: میرزا ابو طالب بیوک ص/ ۶۸، الحیا ة السیاسبة للامام الرضا علیہ السلام: جعفر مرتضیٰ عاملی ص/ ۴۲۸، قیام سادات علوی: علی اکبر تشید ص / ۱۶۸۔

8ـ دریائے سخن تاٴلیف سقازادہ تبریزی: ص/۱۲، بنقل از ودیعہ آل محمد صل اللہ علیہ و آلہ/ آقائے انصاری۔

9ـ تاریخ قدیم قم ص/ ۲۱۳۔

10ـ خطبہ حضرت در شام

11ـ تاریخ قدیم قم ص / ۲۱۴۔

12ـ سفینة البحار ج/ ۲، ص / ۳۷۶۔

13ـ ثواب الأعمال و عيون اخبار الرضا(ع)۔ عوالم العلوم، ج ٢١، ص ٣٥٣ به نقل از اسنى المطالب ص ٤٩ تا ص ٥١۔

14ـ بحار ج ٤٨ صفحه ٣٠٧۔

15ـ عیون اخبارالرضا(ع)۔

16ـ كامل الزيارة

17ـ زبدة التصانيف، ج ٦، ص ١٥٩، بحواله كريمه اهل بيت، ص ٣۔

23ـ ناسخ التواريخ، ج ٣، ص ٦٨، بحواله کتاب ” كريمه اهل بيت”، ص ٣٢۔

24ـ مستدرک الوسائل ج/ ۲، ص / ۲۹۸ ۶

25ـ مصباح الشریعة باب ۱۰۰

26ـ كريمه اهل بيت، ص٤٣، با تلخيص و تصرّف

27ـ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا = اور رات کی ایک حصی مین نیند سی اتهین اور قرآن (اور نماز) پرهین۔ یه آپ کے لئے ایک اضافی فریضه هی؛ امید رکهین که خدا آپ کو مقام محمود (قابل ستائش و تعریف مقام) عطا فرماکر محشور و مبعوث کری۔ (سوره اسراء آیت 79)

28ـ خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہی: یُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ اپنی منہ سی خدا کا نور بجھانا چاہتی ہین لیکن خداوند متعال اپنا نور مکمل کرنی کی سوا کچھ نہین چاہتا خواہ کفار اکمال و اتمام نور کی ناپسند ہی کیون نہ کرین! ۔ (سوره توبه آیت 32)

يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ چاہتی ہین کہ نور خدا کو اپنی منہ سی خاموش کرنا چاہتی ہین مگر خداوند اپنی نور کو مکمل کرنی والا ہی خواہ کافرین کے لئے ناپسند ہی کیون نہ ہو!۔ (سورہ صف آیت 8)

29ـ آثار الحجة محمد رازی ص / ۹ ، نقل از اللولؤ الثمینہ ص / ۲۱۷۔

30ـ بحار ج / ۶۸ ، ص / ۷۶۔

31ـ بحار الانوار، ج 70، ص 249۔ ( عدّة الدّاعی ( ص 218 ) ؛ بحارالانوار (ج 67 ، ص 249 ) ؛

میزان الحکمة ( ج 2 ، ص 882 )؛ تفسیر الامام العسکری ( ص 327 )۔

32ـ الغدیر ج / ۱ ، ص ۱۹۶۔