رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ: یَا فَاطِمَةُ الْبُشْرَى فَلَکِ عِنْدَ اللَّهِ مَقَامٌ مَحْمُودٌ تَشْفَعِینَ فِیهِ لِمُحِبِّیکِ وَ شِیعَتِک

 

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے ارشاد فرمایا:

اے فاطمہ (سلام اللہ علیہا) مبارک ہو ! آپ کو خدا کے نزدیک مقام محمود حاصل ہے کہ جس پر فائز ہو کر آپ اپنے محبوں اور شیعوں کی شفاعت کریں گی۔ بحار الانوار ج 76 ص 359

آپ کی پیدائش بعثت کے پانچویں سال میں 20 جمادی الثانی کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد حضرت محمد مصطفی (ص) اور والدہ جناب خدیجۃ الکبری (س) ہیں ۔ جناب خدیجہ وہ خاتون ہیں کہ جو پیغمبر اسلام پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنی پوری زندگی اپنے مال اور جان سے ان کا اور اسلام کا دفاع کرتی رہیں۔

حضرت زہرا (س)کو نور کیوں کہا گیا ؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ مرحوم شیخ صدوق کی کتاب امالی میں یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ:

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: کہ جب مجھے معراج ہوئی تو جبرائیل امین میرا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے گئے اور مجھے جنت کی ایک کجھور پیش کی ، میں نے اسے کھایا اور وہ میرے صلب میں پہنچ کر نطفہ میں تبدیل ہو گئی ۔ اسی سے فاطمہ زہرا وجود میں آئیں۔ لہذا فاطمہ جنتی نور ہیں ، میں جب جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو فاطمہ کو سونگھ لیتا ہوں۔

ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں پڑھتے ہیں کہ الله نے آپ کے نور کو خلق کیا اور اسے اپنے عرش کی زینت بنایا۔ امام حسین (ع) کی زیارت میں پڑہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا نور بلند مرتبہ مردوں کی صلبوں اور پاکیزہ عورتوں کے رحموں میں رہا۔

ہاں! سب سے پہلے یہ نور حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت علی (ع) کے وجود میں رہا اور بعد میں حضرت زہرا (س) کی طرف منتقل ہو گیا۔

جب حضرت زہرا (س) کا نور اس دنیا میں آیا تو پیغمبر اسلام (ص) کا دل شاد ہو گیا۔ پیغمبر اسلام (ص) جانتے تھے کہ میری نسل فقط فاطمہ کے ذریعہ ہی آگے بڑھے گی اس لیے وہ ان سے بے حد محبت کرتے تھے اور احتراما آپ کو “ام ابیھا” کہہ کر خطاب فرماتے تھے۔

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے اذیت پہنچائی پیغمبر اسلام کا روز کا معمول تھا کہ جب نماز صبح کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو حضرت زہرا (س) کے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر فرماتے تھے:

السلام علیک یا اھل بیت النبوة، انما یرید الله لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا،

 

آپ کا کوثر قرار پانا:

حضرت زہرا (س) نے جس معاشرے میں آنکھیں کھولیں اس میں لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر باپ غصہ سے کانپنے لگتا تھا اور ان کے چہروں کا رنگ بدل جاتا تھا۔ یہ وہ معاشرہ تھا کہ اگر اس میں کسی انسان کے فقط بیٹیاں ہی ہوتی تھیں تو اسے بے اولاد سمجھا جاتا تھا اور اس زمانہ کے دنیا پرست انسان اسے ایک عیب تصور کرتے تھے۔

لیکن پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی تھا کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ چونکہ آپ کے کوئی اولاد نہیں ہے لہذا جب آپ دنیا سے چلے جائیں گے تو آپ کی نسل ختم ہو جائے گی اور آپ کی نبوت کا بھی کوئی نام و نشان باقی نہ رہے گا۔

اولاد نہ ہونے کی بنا پر آپ کی مذمت کرنے والا عاص بن وائل تنہا انسان نہیں تھا بلکہ وہ اس پورے جاہل اور انسانیت مخالف معاشرے کا ترجمان تھا جو اپنی طاقت کے ساتھ پیغمبر اسلام اور الہی تعلیم کی مخالفت کر رہا تھا۔

ان تمام برائیوں اور آخری پیغمبر کی نبوت کے مٹ جانے کے بیہودہ خیالوں کے جواب میں خداوند نے پیغمبر کو کوثر (فاطمہ) عطا کی، اور آپ کی شان میں سورہٴ کوثر کو نازل فرمایا۔ اگر اس سورہ کی تفسیر خیر کثیر بھی کی جائے تب بھی یہ سورہ حضرت زہرا کی ذات پر منطبق ہو گی، کیونکہ پیغمبر اسلام اور حضرت علی کی نسل سے گیارہ امام حضرت زہرا کے ہی بیٹے ہیں۔ اور حجت خدا حضرت امام مہدی  (عج) جن کے وجود سے الله اس جہان کو عدل و انصاف سے پر فرمائے گا وہ بھی آپ کے ہی بیٹے ہیں۔ آج ہمیں دنیا کے ہر کونے میں پیغمبر اسلام کی اولاد نظر آ رہی ہے جن میں بہت سے جید علماء بھی ہیں یہ سب اولاد حضرت زہرا (س) ہی ہیں۔

یہ خیر کثیر ، یہ کوثر،اور یہ پاک و پاکیزہ نسل قیامت تک اسی طرح جاری رہے گی خدا کا شکر کہ پیغمبر کی نسل ہر روز بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔

پیغمبر اسلام (ص) کے جگر کا ٹکڑا:

اپنے بچوں سے ہر انسان محبت کرتا ہے، یہ ایک فطری چیز ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے کسی استدلال کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ اس جذبہٴ محبت کا نتیجہ ہے جس کو خداوند نے ہر انسان کے وجود میں رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ماں باپ رات بھر جاگ کر تمام پریشانیاں برداشت کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خاطر ہر طرح کی مصیبت کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ البتہ یہ محبت ہر انسان میں الگ الگ درجہ میں پائی جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں میں بہت کم ، کچھ لوگوں میں ضروری حد تک اور کچھ میں بہت ہی زیادہ۔

 

بہت زیادہ محبت دو وجہ سے ہو سکتی ہے:

  1. جہالت و نادانی کی بنا پر: ایسی محبت سے بچے بگڑ جاتے ہیں اور یہ محبت ان کے لیے نفع بخش ہونے کی بجائے، مضر ثابت ہوتی ہے ۔

 

  1. اولاد میں پائی جانے والی خوبیوں کے سبب: ایسی محبت بچوں کی قدردانی کی دلیل ہے اور اس محبت کی وجہ سے ان کے اندر پائی جانے والی صلاحتیں اجاگر ہوتی ہیں۔

 

یہ بات روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ پیغمبروں میں جہالت و نادانی نہیں پائی جاتی۔ خاص طور پر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (ص) کے بارے میں تو اس چیز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ آپ اشرف مخلوقات اور عقل کل ہیں۔ آپ کا ہر عمل عقل و حکمت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

جو انسان آخری پیغمبر کی شکل میں انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہو، نہ وہ بیہودہ باتیں کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ بیان کر سکتا ہے۔ بلکہ وہ ایسا سچا اور امین ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں ان کے اخلاق و کرادر کی تعریف کرتے ہوا کہا ہے کہ: آپ خلق عظیم کی منزل پر فائز ہیں۔

اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد اب ہم پیغمبر اسلام کے اس جملہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے حضرت زہرا کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے ناراض کیا ہے۔

 

آپ کا “ام ابیھا” قرار پانا:

عربوں میں رسم ہے کہ ہر انسان کی ایک کنیت ہوتی ہے اور وہ احتراما ایک دوسرے کو اسی کنیت سے پکارتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام (ص) حضرت زہرا (س) کا اتنا احترام کرتے تھے کہ آپ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ کو آپ کی کنیت ام ابیہا سے خطاب فرماتے تھے۔ ام ابیہا یعنی اپنے باپ کی ماں۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کی والدہ کا آپ کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا اس لیے آپ اپنی ماں کے بعد حضرت فاطمہ بنت اسد یعنی حضرت  علی (ع) کی والدہ سے بہت محبت کرنے لگے تھے اور آپ ہی کو ماں کہتے تھے ۔ جب ان کا انتقال ہو تو پیغمبر اسلام بہت غمگین ہوئے اور فرمایا کہ:

آج میری ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔

اس کے بعد خداوند نے پیغمبر اسلام (ص) کو فاطمہ عطا فرمائی۔ جب آپ فاطمہ کو دیکھتے تھے تو آپ کو فاطمہ بنت اسد یاد آ جاتی تھیں اور آپ فاطمہ کی شکل میں انھیں کو دیکھنے لگتے تھے۔ اسی لیے آپ نے حضرت زہرا کے لیے “ام ابیہا” کی کنیت کا انتخاب فرمایا۔ ہاں! حضرت زہرا پیغمبر اسلام کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی ماں کے مثل بھی تھیں۔

 

حضرت فاطمہ زہراء (س) اور حضرت مریم (س) کے فضائل کا تقابلی جائزہ

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

علماء فضائل کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک فضائل ذاتی اور دوسری فضائل نسبی۔ فضائل ذاتی سے مراد وہ فضائل ہیں، جو کسی شخصیت کے اندر ذاتی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ فضائل نسبی وہ صفات ہیں، جو دوسری چیز کے ساتھ نسبت دینے سے اس کے اندر لحاظ ہوتی ہیں۔ حضرت فاطمۃ زہراء علیہا السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا میں دونوں طرح کی صفات اور فضائل ہیں۔ وہ فضائل جو کسی اور سے منسوب ہونے کی وجہ سے ان میں پائے جاتے ہیں اور وہ فضائل بھی پائے جاتے ہیں، جو کسی سے منسوب ہوئے بغیر خود ان کی ذات کے اندر موجود ہیں۔ اس مختصر  مقالہ میں ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے فضائل کا تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

 

  1. خاندانی شرافت

قانون وراثت کے مطابق والدین کی صفات جیسے نجابت و شرافت وغیرہ فرزند کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔ ابن عساکر اور ابن اسحاق کے بیان کردہ شجرہ نسب کے مطابق حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے والد گرامی جناب عمران حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے اور بنی اسرائیل کے امام تھے۔ ان کی خاندانی شرافت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جناب عیسٰی علیہ السلام جیسے اولوالعزم اس خاندان سے آئے۔ قرآن کریم میں اس خاندان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:(ان اللہ اصطفٰی آدم و نوحا و آل ابراھیم و آل عمران علی العالمین) “بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا۔” جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی خاندانی شرافت تمام مسلمانوں کیلئے روشن ہے، سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے اس خاندان سے محبت کو اجر رسالت قرار دیا ہے۔ امام رضا علیہ السلام کی روایت کے مطابق اوپر والی آیت میں آل ابراہیم سے مراد خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے۔ اس کے علاوہ آیت تطہیر میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں واضح  طور پر فرمایا ہے۔ سورۃ ابراہیم میں اس خاندان کو شجرۃ مبارکۃ  سے تعبیر کیا ہے، اسی طرح سورہ انسان اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں نے نازل ہوئی ہے۔

 

  1. والدین

جناب مریم سلام اللہ علیہا کے والد گرامی جناب عمران تھے اور ان کا سلسلہ نسب حضرت داؤد علیہ السلام سے ملتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ جناب عمران اور جناب زکریا دونوں اپنے دور کے پیغمبروں میں سے تھے۔ جناب حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کے والد گرامی محمد بن عبداللہ خاتم انبیاء اور خاتم الرسل ہیں۔ آپ تمام مخلوقات سے اشرف و اعلٰی ہیں، انہی کی وجہ سے خداوند عالم نے کائنات کو خلق فرمایا: “یا احمد! لولاک کما خلقت الافلاک” اے احمد میں تجھے خلق نہ کرتا تو کائنات کو خلق نہ کرتا۔ جناب مریم سلام اللہ علیہا کی والدہ اپنے زمانے کی عبادت گزار خاتون تھیں اور صاحب اولاد نہیں تھی۔ انھوں نے خدا سے اولاد کی دعا کی تو لطف الٰہی سے حاملہ ہوئیں، ان کی شرافت اتنی تھی کہ خدا ان کی نذر قبول کرکے فرماتا ہے (فتقبلھا ربھا) “اس کے رب نے اسے قبول کیا۔” جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی والدہ گرامی وہ عظیم خاتون ہیں، جس کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ (واللہ ما اخلف لی خیرا منھا ، لقد اٰمنت بی اذکفر الناس صدقتنی اذکذبنی الناس ۔۔۔۔۔) “خدا کی قسم! مجھے خدیجہ سے بہتر بیوی عطا نہیں کی گئی۔ اس نے اس وقت مجھ پر ایمان لایا، جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے۔ اور اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے۔” دوسری جگہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب زہراء سلام اللہ علیہا سے فرماتے ہیں (ان بطن امک کالامامۃ و عاء) “گویا تیری والدہ کا شکم امامت کے لئے ایک ظرف کی مانند تھا۔” جناب خدیجہ نے اپنا سارا مال راہ اسلام میں خرچ کیا۔ جناب خدیجہ ان چار خواتین میں سے ہیں کہ بہشت ان کی مشتاق ہے۔

 

  1. اسم گذاری

جناب مریم سلام اللہ علیہا کا نام ان کی والدہ نے رکھا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:(انی سمیتھا مریم) “میں نے اس بچی کا نام مریم رکھا” جس کا معنی عابدہ اور خدمتگزار کے ہے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نام خداوند عالم کی جانب سے معین ہوا ہے، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کے نزدیک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے نو اسماء ہیں: فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکیہ، رضیہ، محدثہ اور زہراء۔ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو خدا نے ایک فرشتے کو بھیجا، تاکہ نام فاطمہ کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر جاری کرے اور اس طرح آپ کا نام فاطمہ رکھا گیا۔

 

  1. ظاہری حسن

امام باقر علیہ السلام جناب مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرماتے ہیں:(اجمل النساء)”وہ ساری عورتوں سے زیادہ خوبصورت خاتون تھیں۔” دوسری روایت میں ہے کہ قیامت کے دن ان عورتوں کے سامنے جو اپنی خوبصورتی کو فساد کا بہانہ قرار دیتی ہیں، جناب مریم سلام اللہ علیہا کو پیش کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم مریم سلام اللہ علیہا سے بھی زیادہ خوبصورت تھیں۔؟ امام موسٰی کاظم علیہ السلام جناب فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرماتے ہیں:(کانت فاطمۃ سلام اللہ علیہا کوکبا دریا بین النساء العالمین) “حضرت زہراء سلام اللہ علیہا عالمین کی تمام عورتوں کے درمیان ستارہ ضوفشاں ہیں۔” بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو زہراء ان کے نورانی چہرے کی وجہ سے کہا گیا  ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: “فاطمۃ حوراء الانسیۃ” فاطمہ انسانی شکل میں حور ہیں۔ مجموعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سیدہ کے چہرے سے نور پھوٹتا تھا اور وہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا، جب مسکراتی تھیں تو ان کے دانت موتی کی طرح چمکتے تھے۔

 

  1. ایمان کامل

حضرت مریم سلام اللہ علیہا اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا دونوں ایمان کامل کے درجہ پر فائز تھیں، جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:(کمل من الرجال کثیر و لم یکمل من النساءالا مریم بنت عمران و آسیۃ امراۃ فرعون و فاطمہ) “مردوں میں سے بہت سارے لوگ ایمان کامل کے درجے پر فائز تھے، لیکن عورتوں میں سے سوائے مریم بنت عمران، آسیہ اور فاطمہ کے کوئی کامل نہیں۔”

 

  1. ظاہری آلودگیوں سے پاک

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط نجاشی کو لکھا، اس میں جناب مریم سلام اللہ علیہا کو بتول کے نام سے یاد فرمایا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق مریم سلام اللہ علیہا اور فاطمہ سلام اللہ علیہا دونوں بتول تھیں۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بتول سے مراد کیا ہے؟ تو فرمایا:(البتول لم ترحمرۃ قط ای لم تحضن فان الحیض مکروہ فی بنات الانبیاء) “بتول یعنی وہ خاتون جس نے کبھی سرخی نہیں دیکھی ہو، یعنی کبھی حائض نہ ہوئی ہو، کیونکہ حیض انبیاء کی بیٹیوں کیلئے ناپسند ہے۔” قندوزی نے ینابیع المودۃ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بتول اس لئے کہا گیا ہے، کیونکہ خداوند عالم نے انہیں حیض و نفاس سے دور فرمایا ہے۔ جناب زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے صفت طہارت کا ہونا قطعی امر ہے، جبکہ جناب مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض روایات کے مطابق خاص دونوں میں جناب مریم سلام اللہ علیہا مسجد سے باہر جایا کرتی تھیں۔

 

  1. کفیل اور سرپرست

جناب مریم سلام اللہ علیہا کی والدہ گرامی ان کی ولادت سے پہلے ہی فوت ہوچکی تھی، ان کی والدہ ان کو معبد کے لئے نذر کرچکی تھی، جب مریم سلام اللہ علیہا معبد منتقل کر دی گئی تو معبد کے راہبوں کے درمیان ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف ہوا، اس لئے قرعہ اندازی ہوئی تو جناب زکریا کا نام آیا، جو کہ بی بی مریم سلام اللہ علیہا کے خالو تھے۔(و کفلھا زکریا) جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے کفیل اور سرپرست ان کے بابا حضرت محمد مصطفٰی ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام جب جناب مریم سلام اللہ علیہا کے محراب عبادت میں داخل ہوتے تھے تو غیر موسمی پھل دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے، لٰہذا پوچھتے تھے:(کلما دخل علیہا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا قال یا مریم سلام اللہ علیہا انی لک ھذا) اسی طرح بی بی دو عالم فاطمہ سلام اللہ علیہا کی کرامات دیکھ کر اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے سلمان و ابوذر اور بی بی فضہ حیران ہو جاتے تھے۔

 

  1. عصمت اور طہارت

خداوند عالم نے جناب مریم سلام اللہ علیہا کو نجاستوں سے پاک فرمایا:(و اذ قالت الملائکۃ یا مریم سلام اللہ علیہا ان اللہ اصطفک و طھرک۔۔۔۔۔)(وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا بے شک اللہ نے تمھیں برگزیدہ کیا ہے اور تمھیں پاکیزہ بنایا ہے۔ جناب زہراء سلام اللہ علیہا کیلئے اللہ تعالٰی فرماتا ہے:(انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطہر کم تطہیرا)”اللہ کا ارادہ بس یہی ہے، ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے، جسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔” یقیناً فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا قطعی طور اس آیت کی مصداق ہیں۔ بہت سارے اہل سنت مفسرین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا جزء اہل بیت اور اس آیت میں شامل ہیں۔

 

  1. تمام خواتین پر فضیلت

جناب مریم سلام اللہ علیہا کو اپنے زمانے کی تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے، جبکہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تمام زمانوں کی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ خداوند عالم جناب مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرماتا ہے:(ان اللہ اصطفاک و طھرک و اصطفاک علی نساء العالمین) جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی فضیلت تمام زمانے کے عورتوں پر ہے اور اس کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:(کانت مریم سیدة نساء زمانها اما ابنتی فاطمه فهی سیدة نساء العالمین من الاولین و الاخرین)”جناب مریم اپنے زمانے کی تمام عورتوں کی سردار تھی، لیکن فاطمہ تمام زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں۔” جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو 70 ہزار مقرب فرشتے ان کو سلام کرتے تھے اور اور کہتے تھے، اے فاطمہ! خداوند عالم نے تجھے چن لیا، پاک کر دیا اور تجھے تمام عورتوں پر فضیلت دی ہے۔

 

  1. فرشتوں سے ہم کلام ہونا

جناب مریم سلام اللہ علیہا محدثہ تھی اور جبریل ان پر نازل ہوتے تھے:(قالت الملائکہ یا مریم سلام اللہ علیہا ان اللہ یبشرک ۔۔۔۔) “جب جناب مریم سے فرشتوں نے کہا اے مریم! خدا تجھے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔” اسی طرح دوسری جگہ جناب مریم سلام اللہ علیہا سے گفتگو کرتے ہیں:(فقال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما زکیا) جناب مریم سلام اللہ علیہا جب حاملہ ہوئیں اور بہت زیادہ غمگین ہوئیں تو آواز آئی اے مریم غمگین نہ ہوجاؤ:(فناداھا من تحتھا الا تحزنی) جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا بھی محدثہ تھیں، امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو محدثہ کہتے ہیں، کیونکہ فرشتے آسمان سے ان پر نازل ہوتے تھے اور اسی طرح ندا دیتے تھے، جیسے جناب مریم سلام اللہ علیہا کو دیتے تھے۔  مصحف فاطمہ فرشتوں سے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی گفتگو کا نتیجہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:(ان عندنا مصحف فاطمہ)”ہمارے پاس مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔” حضرت زہراء جب اپنے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بہت زیادہ غم و اندوہ سے دچار ہوئیں تو خداوند عالم نے ان کو تسلی دینے کیلئے جبرئیل اور فرشتوں کو بھیجا، تاکہ ان کو تسلی دیں۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق حضرت زہراء کی سب سے بڑی فضیلت 75 یا 95 دن تک جبرئیل امین کا مسلسل در خانہ زہرا پر نازل ہونا ہے اور یہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے  مخصوص فضیلت ہے۔

 

  1. کرامت اور تصرف تکوینی

حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے خدا کے حکم سے کھجور کے خشک درخت کو ہلایا تو فوراً پھل دار درخت بنا اور تازہ کھجوریں نکل آئیں اور جناب مریم سلام اللہ علیہا نے انہیں تناول کیا۔ (وھزی الیک بجذع النخلۃ ۔۔۔۔ جنیا) “اس کھجور کے درخت کی ٹہنی کو ہلاؤ، تمہارے لئے تازہ کھجوریں گریں گی۔” جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی صاحب کرامات تھیں اور آپ کے بہت سارے معجزات آپ کے تصرف تکوینی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جیسا کہ چکی کا خود بخود چلنا، بچوں کے جھولے کا خود بخود جھولنا، غذا کا آمادہ ہونا وغیرہ۔ یہ آپ کے تصرفات تکوینی کی مثالیں ہیں۔ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں: کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے امام علی علیہ السلام کو بلانے کے لئے بھیجا، جب میں امام علی علیہ السلام کے گھر گیا اور آواز دی، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا، لیکن میں نے دیکھا کہ چکی خود بخود چل رہی ہے اور گندم آٹے میں تبدیل ہو رہی ہے، جبکہ کوئی بھی چکی کے پاس موجود نہیں ہے۔ میں واپس رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یارسول اللہ میں  نے ایسی چیز دیکھی، جس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی، میں حیران ہوں، امام علی علیہ السلام کے گھر میں چکی خود بخود چل رہی تھی اور کوئی بھی چکی کے پاس نہیں تھا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر لحاظ سے خداوند عالم نے میری بیٹی کے دل کو یقین سے اور اس کے وجود کو ایمان سے پر کر دیا ہے۔

 

  1. بہشتی غذا کا ملنا

بی بی مریم سلام اللہ علیہا کی کرامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہشتی کھانے خدا کی طرف سے ان کو میسر ہوتے تھے:(کلما دخل علیھا زکریا۔۔۔ وجد عندھا رزقا ۔۔۔۔بغیر حساب) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لئے بھی مختلف مواقع پر بہشتی غذا میسر ہوئی۔ جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت بھوکے تھے اور آپؐ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائے اور کھانے کا سوال کیا۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے جواب دیا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ حسنین بھی بھوکے ہیں۔ رسول خدا واپس چلے گئے، اتنے میں ایک عورت نے دو روٹیاں اور گوشت کا ایک ٹکڑا جناب حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت میں لے کر آئی۔ آپؑ نے اسے پکایا اور رسول خدا ﷺ کو کھانے پر دعوت دی، درحالیکہ حسنین علیہم السلام اور حضرت علی علیہ السلام بھی بھوکے تھے۔ آپ ؑنے غذا کے برتن کو رسول خدا ﷺکے سامنے رکھ دیا۔ رسول خداﷺ نے جب برتن کو کھولا تو برتن گوشت اور روٹیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ پیغمبر اکرم ﷺنے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا سے سوال کیا بیٹی اسے کہاں سے لائی ہو۔؟ آپؑ نے فرمایا:(هو من عند الله ان الله یرزق من یشاء بغیر حساب) “یہ اللہ کی طرف سے ہے اور خدا جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا کرتا ہے۔” رسول خدا نے فرمایا:(الحمد لله الذی جعلک شبیهة سیدة نساء بنی اسرائیل)”تمام تعریفین اللہ کے لئے، جس نے تجھے مریم جیسا قرار دیا۔” حضرت زہراء سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ اس غذا کو تمام ہمسائیوں نے بھی تناول کیا اور خدا نے اس میں برکت عطا کی۔

 

  1. مصائب و آلام

مشکلات کمال کے راستے میں ایک موثر عامل اور تقرب الٰہی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، لٰہذا خداوند عالم کے تمام اولیاء خاص مصائب و آلام کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:(ان اشد الناس بلاء النبیون ثم الوصیون ثم الامثل فالامثل ۔۔۔۔) جناب مریم سلام اللہ علیہا بھی بہت سارے مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہوئیں، پوری زندگی والدین سے جدا ہونا، بچپن میں بیت المقدس کی خدمتگزاری، تمام تر طہارت کے باوجود لوگوں کے ان کے بارے میں سوء ظن کرنا اور تہمت لگانا، جناب عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت کسی کا پاس نہ ہونا، باپ کے بغیر بچے کی پرورش کرنا، یہ سارے مصائب و مشکلات جناب مریم سلام اللہ علیہا پر آئے۔ جناب زہراء سلام اللہ علیہا کے مصائب و مشکلات بے شمار ہیں۔ جب مادر گرامی کے شکم میں تھیں، تب بھی اپنی والدہ کی تنہائی اور پریشانی کو درک کرتی تھیں، جب آپ دنیا میں تشریف لائیں تو اپنے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام تر مشکلات اور اذیتوں کا مشاہدہ کیا۔ پیدائش کے چند سال بعد اپنے بابا کے ساتھ شعب ابی طالب میں میں محصور ہوئیں اور اس کے بعد رسول خدا کے ساتھ ہجرت کی۔ غزوہ احد کے موقع پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد زہراء پر مصائب کا ہجوم آیا اور ایک نئی رخ سے مصائب کا آغاز ہوا اور آپ مسلسل گریہ کرتی رہیں۔ آپ کا پہلو شکستہ ہوگیا، آپ کا فرزند محسن شہید ہوا، اس قدر مصیبتیں آئیں کہ آپ موت کی تمنا کرنے لگیں۔

 

  1. موت کی آرزو

جناب مریم سلام اللہ علیہا شدت غم اور لوگوں کے جھٹلانے کی وجہ مرنے کی آرزو کرتی ہیں :(یا لیتنی مت قبل ھذا)”اے کاش میں اسے پہلے مرگئی ہوتی۔” جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی شدت غم کی وجہ سے مرنے کی آرزو کرتی تھیں اور فرماتی تھیں:(اللھم عجل وفاتی سریعا) “خدایا! جلد از جلد میری موت آئے” خداوند عالم نے بھی ان کی دعا قبول کی۔

 

  1. روزہ سکوت

حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے خدا کے حکم سے نادان لوگوں کی اہانت کے مقابلے میں سکوت کا روزہ رکھا تھا اور ان کے ساتھ بات کرنے کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا (فلن اکلم الیوم انسیا) “میں آج کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔” جناب فاطمہ زہرا نے بھی خلیفہ اول و دوم کے سامنے سکوت اختیار کیا اور ان سے بات کرنے کو اپنے اوپر حرام قرار دیا اور فرمایا کہ میں ہرگز ان سے بات نہیں کروں گی:(واللہ لااکلمک ابدا)”خدا کی قسم! میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گی۔”

 

  1. پاکیزہ فرزند

حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے:(اللتی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا) “مریم بنت عمران نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے، ہم نے اپنی روح اس میں پھونک دی۔” خداوند عالم نے ان کی پاکیزگی کے نتیجے میں اپنی روح ان میں پھونک دی، جس کے نتیجے میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ خداوند عالم نے جناب زہراء سلام اللہ علیہا کو ان کی پاکدامنی کے نتیجے میں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام جیسے طاہر فرزند عطا کئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:(ان فاطمۃ سلام اللہ علیہا احصنت فرجھا فحرم اللہ ذریتھا علی النار) “بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، پس خدا نے ان کی نسل پر آگ حرام کر دی۔” حسان بن ثابت اسی بات کو شعر کی صورت میں بیان کیا ہے:

“و ان مریم سلام اللہ علیہا احصنت فرجھا و جاءت بعیسی علیہ السلام کبدر الدجی”

“فقد احصنت فاطمۃ سلام اللہ علیہا بعد ھا و جاءت بسبطی نبی الھدی”

بے شک جناب مریم سلام اللہ علیہا نے اپنی عصمت کی حفاظت کی اور چاند جیسے حضرت عیسٰی علیہ السلام دنیا میں لائیں۔

فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بھی اپنی عصمت کی حفاظت کی اور رسول خدا کے دو نواسوں کو دنیا میں لائیں۔

علامہ اقبال حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند اکبر امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آن یکی شمع شبستان حرم

حافظ جمعیت خیر الامم

اسلامی تاریخ کی یہ وہ درخشاں ترین شخصیت ہے، جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کا شیرازہ ایک نازک دور میں بکھرنے سے بچایا اور یہ ثابت کر دیا کہ امت کی شیرازہ بندی میں امام کی حیثیت، نظامِ کائنات میں سورج کی مانند ہوتی ہے۔

تا نشیند آتشِ پیکارو کین

پشتِ پا زد برسرِتاجِ ونگین

امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں:

آن دگر مولائے ابرارِ جہان

قوتِ بازوئے احرارِ جہان

تمام عالم کے ابراروں کے مولا و سردار سید الشہداء امام حسین علیہ السلام ہیں، دُنیا میں جتنے بھی حریت پسند لوگ ہیں، ان سب کی قوتِ بازو اور جس کے تذکرے سے عزم ملتا ہے، وہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بیٹا حسین علیہ السلام ہے۔

 

  1. عبادت و بندگی

قرآن کریم حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرماتا ہے:(و کانت من القانتین) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب مریم سلام اللہ علیہا مسلسل اطاعت، نماز، طولانی قیام اور دعا میں مشغول رہتی تھیں۔ ابن خلدون لکھتا ہے کہ جناب مریم سلام اللہ علیہا نے اس قدر عبادت کی کہ لوگ ان کی مثال دیتے تھے۔ جناب مریم سلام اللہ علیہا محراب میں خدا کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی محراب عبادت میں خدا سے راز و نیاز کرتی تھیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:(اذا قامت فی محراباا ۔۔۔۔ نورھا لاہل السماء) “جب وہ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو اہل آسمان کیلئے ان کا نور چمکتا تھا۔” جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بھی اپنی مختصر زندگی میں اس قدر عبادت کی کہ امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے شب جمعہ اپنی والدہ کو محراب عبادت میں دیکھا کہ وہ مسلسل رکوع و سجود بجا لاتی رہیں، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی نمودار ہوئی اور میں نے سنا کہ مومن مردوں اور عورتوں کیلئے دعا کرتی تھیں۔ حسن بصری کہتا ہے کہ اس امت میں فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بڑھ کر کوئی عبادت گذار نہیں ملتا، اس قدر عبادت میں کھڑی رہیں کہ ان کے پاؤں میں ورم آچکے تھے۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی عبادت و قنوت اس حد تک تھی کہ آپ مصداق آیہ کریمہ(الذین یذکرون اللہ قیاما و قعوداً) تھیں۔

 

  1. معصوم کے ہاتھوں غسل

جناب مریم سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد جناب عیسٰی علیہ السلام نے انہیں غسل دیا۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بھی امام علی علیہ السلام نے غسل و کفن دیا۔ مفضل نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا فاطمہ سلام اللہ علیہا کو کس نے غسل دیا تھا، فرمایا: امیر المومنین علیہ السلام نے۔ مفضل کہتا ہے میں یہ بات سن کر حیران ہوا، لہذا امام نے فرمایا گویا تم یہ بات سن کر غمگین ہوئے ہو، میں عرض کیا جی ہاں میری جان آپ پہ قربان! ایسا ہی ہے۔ امام نے مجھ سے فرمایا غمگین نہ ہو جاؤ، کیونکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا صدیقہ تھیں اور سوائے صدیق کے کوئی غسل نہیں دے سکتا تھا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ مریم سلام اللہ علیہا  کو سوائے عیسٰی علیہ السلام کے کسی اور نے غسل نہیں دیا۔

…………………………………………………………………………………………

حوالہ جات:

1۔ امام حافظ، عماد الدین، قصص الانبیاء، ص ۵۴۰

2۔ آل عمران: ۳۳

3۔ شوریٰ : ۲۳

4۔ طباطبائی، محمد حسین، المیزان، ج۳، ص: ۱۶۶

5۔ الاحزاب: ۳۳

6۔ ابراھیم: ۲۴

7۔ طباطبائی، محمد حسین، المیزان، ج۲، ص: ۱۸۴

8۔ قزوینی، محمد کاظم، فاطمہ من المھد الی اللحد، ص: ۶۳

9۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۱، ص۱۹۴

10۔ آل عمران، ۳۷

11۔ محدث اردبیلی، کشف الغمہ، ج۱، ص ۴۷۹

12۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص: ۴۳

13۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۵۳

14۔ آل عمران: ۳۶

15۔ طباطبائی، محمد حسین، المیزان، ج۳، ص: ۱۷۳

16۔ محدث اردبیلی، کشف الغمہ، ج:۱، ص ۴۳۹

17۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۴۳، ص: ۱۳

18۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار ج۱۴، ص۲۰۴

19۔ ایضاً، ص: ۱۹۲

20۔ بحرانی، ھاشم بن سلیمان، البرھان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص: ۶۶

21۔ قزوینی، محمد کاظم، فاطمہ من المھد الی اللحد، مترجم الطاف حسین  ص۲۳۱

22۔ ایضاً، ص: ۱۸

23۔ سیوطی، عبدالرحمن، الدر المنثور، ج۲، ص: ۲۳

24۔ آیتی، عبدالمحمد، تاریخ ابن خلدون، ج۱، ص ۴۳۴

25۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۴۳، ص: ۱۴

26۔ قندوزی، سلیمان، ینابیع المودۃ، ص: ۳۲۲، حدیث:۹۳۰

27۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ص ۱40، ص۱۹۷

28۔ حافظ، عماد الدین، قصص الانبیاء، ص:۵۴۰

29۔ آل عمران، ۳۶

30۔ آل عمران: ۳۷

31۔ آل عمران: ۴۲

32۔ الاحزاب:۳۳

33۔ طبرسی، جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج: ۲۲، ص: ۷، سیوطی، عبدالرحمن، الدرالمنثور، ج۵، ص: ۱۹۸، قندوزی، سلیمان، ینابیع المودۃ، ج۱، ص:۳۱۹

34۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص: ۲۲، ۲۴، ۷۸

35۔ مکارم شیرازی، زہراء برترین بانوی جہان

36۔ ایضاً، ص: ۴۹

37۔ آل عمران: ۴۵

38۔ مریم: ۱۹

39۔ مریم: ۲۴

40۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص ۷۸

41۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص ۷۹

42۔ مریم: ۲۵

43۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص: ۲۹

44۔ ایضاً: ص: ۴۵

45۔ ایضاً: ص:۳۰

46۔ آل عمران:۳۷

47۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۳، ص ۲۷، ۳۱ اور ۷۷

48۔ زمحشری نے کشاف میں اور سیوطی نے درالمنثور میں سورۃ آل عمران کی آیت 37 کی تفسیر میں اس واقعے کو نقل کئے ہیں۔

49۔ خمینی رحمۃ اللہ علیہ، روح اللہ، چہل حدیث ص: ۲۰۳

50۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار ج ۴۳، ص: ۴۳۲

51۔ نجمی محمد صادق، سیری در صحیحین، ص ۳۲۴

52۔ ایضاً، ص: ۳۲۵

53۔ مریم: ۲۳

54۔ دشتی، محمد، فرھنگ سخنان حضرت زھرا، ص: ۱۷۷

55۔ مریم: ۲۶

56۔ قزوینی، محمد کاظم، فاطمہ من المھد الی اللحد، ص: ۵۷۱

57۔ تحریم: ۱۱

58۔ شافعی، ابراہیم، فرائد السمطین، ج۲، ص ۶۵

59۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۳، ص: ۵۰

60۔ تحریم: ۱۲

61۔ آیتی، عبدالحمید، تاریخ ابن خلدون، ج:۱، ص: ۱۶۰

62۔ ابن بابویہ، محمد بن علی، علی الشرائع ص: ۱۸۱

63۔ ابن بابویہ، محمد علی، علل الشرائع، ص: ۱۸۲

64۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۷۶، ص: ۸۴

65۔ آل عمران:۱۹۱

66۔ ابن بابویہ، محمد علی، علل الشرائع ص: ۱۸۴