اعمال روز عرفہ

یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی فضیلت کا دن ہے۔ یہی وہ دن ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے بندوں کو اپنی اطاعت و عبادت کی طرف بلایاہے ، آج کے دن ان کے لیے اپنے جود و سخا کا دسترخوان بچھایا ہے اور آج شیطان کو دھتکارا گیا اور وہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔

روایت ہے کہ امام زین العابدینؑ نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے حالانکہ آج تو یہ امید ہے کہ ماؤں کے پیٹ کے بچے بھی خدا کے لطف و کرم سے مالامال ہو کر سعید و خوش بخت ہو جائیں ۔

اس دن کے چند ایک اعمال ہیں:

  1. غسل کرے۔
  2. امام حسین -کی زیارت کرے اس کا ثواب ہزار حج وعمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں ۔ کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے سائے میں رہے تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں زیادہ ہے اور وہ ان لوگوں سے مقدم ہے۔ حضرت ؑ کی زیارت کی کیفیت باب زیارت میں آئے گی ۔ تا ہم یہ یاد رہے کہ یہ ثواب اور درجہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنا واجب حج چھوڑ کر زیارات کو نہ گیا ہو۔
  3. نماز عصر کے بعد دعائ عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دو رکعت نماز بجا لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کا ثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد ائمہ طاہرین ؑ کے حکم کے مطابق دعائ عرفہ پڑھے اور اعمال عرفہ بجا لائے اور یہ اعمال بہت زیادہ ہیں حسب گنجائش ہم یہاں چند اعمال کا ذکر کرتے ہیں۔

شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعائ عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری کا بھی خوف نہ ہو۔ زوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اور شب عرفہ وروز عرفہ زیارت امام حسین علیہ السلام بھی مستحب ہے۔

زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر و عصر نہایت متانت اور سنجیدگی سے بجا لائے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے، اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہررکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی پڑھے:

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ چار رکعت وہی امیر المومنینؑ کی نماز ہے جو مفاتیح الجنان میں اعمال روز جمعہ کے اندر مذکور ہے، پھر فرماتے ہیں کہ چار رکعت نماز کے بعد یہ دس تسبیحات پڑھے۔ جو رسول اللہ سے مروی ہیں اور سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اقبال میں درج کیں اور وہ یہ ہیں۔

سُبْحانَ الَّذِی فِی السَّمائِ عَرْشُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْاَرْضِ حُکْمُهُ سُبْحانَ الَّذِی

پاک ہے وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے پاک ہے وہ خدا جس کا حکم زمین میں نافذ ہے پاک ہے وہ خد اجس کا

فِی الْقُبُورِ قَضاؤُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْبَحْرِ سَبِیلُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی النَّارِ سُلْطانُهُ

فیصلہ قبروں میں نافذ ہے پاک ہے وہ خدا جس کا دریا میں راستہ ہے پاک ہے وہ خدا جو جہنم پر اختیار رکھتا ہے

سُبْحانَ الَّذِی فِی الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْقِیامَةِ عَدْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی رَفَعَ

پاک ہے وہ خدا جنت میں جس کی رحمت ہے پاک ہے وہ خداقیامت میں جس کا عدل ہے پاک ہے وہ خدا جس نے آسمان

السَّمائَ سُبْحانَ الَّذِی بَسَطَ الْاَرْضَ سُبْحانَ الَّذِی لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجی مِنْهُ إلاَّ إلَیْهِ

بلند کیا پاک ہے وہ خدا جس نے زمین بچھائی پاک ہے وہ خدا جس سے پناہ و نجات نہیں مگر اسی کے ہاں سے

پھر سو مرتبہ کہے :سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ ﷲ اَکْبَرُ نیز سورہ توحید و آیت الکرسی اور صلوات

اللہ پاک ہے اللہ ہی کے لیے حمد ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اورا للہ بزرگتر ہے

سوسو مرتبہ پڑھے، دس مرتبہ کہے:لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَحْدَه، لَا شَرِیْکَ لَه، لَه، الْمُلْکُ وَ لَهُ

نہیںکوئی معبود سوائے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں اسی کے لیے حکومت اور حمد

الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ یُمِیْتُ وَ یُحْیِیْ وَ هُوَ حَیُّ، لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ

وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ ایسازندہ ہے جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ

عَلیٰ کُلِّ شَئْیٍ قَدِیْرُ ، دس مرتبہ کہے:اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذٰی لاٰ اِلهَ اِلاّٰ هُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ

ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے بخشش چاہتاہوں اس اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ و پائندہ ہے اور

وَاَتَوُبُ اِلَیْہِ دس مرتبہ کہے: یٰا ﷲ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحْمٰنُ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحیٰمُ دس مرتبہ کہے:

میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں اے اللہ اے بڑے مہربان اے رحم والے

یٰا بَدیٰعُ السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ یٰا ذَا الْجَلاٰلِ وَ الْاِکْرٰامِ دس مرتبہ کہے:یٰا حَيُّ یَا قَیُّومُ

اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے جلالت و بزرگی کے مالک اے

دس مرتبہ کہے: یٰا حَنَّانُ یٰا مَنَّانُ دس مرتبہ کہے: یٰا لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ اَنْتَ دس

زندہ اے پائندہ اے محبت والے اے احسان والے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں

مرتبہ کہے: آمین پھر یہ کہے :اَللّٰهُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ یٰا مَنْ هُوَ اَقْرَبُ اِلَیَّ مِنْ حَبْلِ

اے معبود! سوال کرتا ہوں تجھ سے اے وہ جو شہ رگ سے زیادہ میرے قریب و نزدیک

الْوَریٰد یٰا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِه یَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی وَ بِالْاُفُقِ

ہے اے وہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اے وہ جو بلند مقام اور واضح

الْمُبیٰنِ یٰا مَنْ هُوَ الْرَحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰی یٰا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ

افق میں ہے اے وہ جو بڑے رحم والا ہے اور عرش پر مسلط ہے اے وہ جس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ

سَمیٰعُ الْبَصٰیرْ اَسْئَلُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ

سننے دیکھنے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما ۔

پس اپنی حاجت طلب کرے کہ انشائ ﷲ پوری ہوگی ۔

امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص یہ صلوات پڑھے تو گویا اس نے اہل بیت عليه‌السلام کو مسرور کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطی، وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

اے اللہ! اے ہر عطا کرنے والے سے زیادہ سخی اے ہر سوال کئے ہوئے سے بہتر اور اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اے اللہ

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَی

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور انکی آل پر رحمت نازل فرما پہلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی آل پر رحمت نازل کر پچھلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلیٰ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ

اور ان کی آل پر رحمت نازل کر معالم بالا میں اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل کر مرسلوں کے ساتھ اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّداً وَآلَهُ الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالرِّفْعَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ إنِّی

و آل عليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ذریعہ و وسیلہ بڑائی بزرگی بلندی اور بہت بڑا درجہ و مقام عطا کر اے اللہ! بے شک میں

آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی فِی الْقِیامَةِ رُؤْیَتَهُ

ایمان لایا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میںمجھے ان کے دیدار سے محروم نہ رکھنا

وَارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ، وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِ، وَاسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَباً رَوِیّاً ساِئغاً

اور ان کی صحبت نصیب کرنا نیز مجھے ان کے دین پر موت دے ان کے حوض کوثر میں سے پانی پلانا جو سیر کردینے والا خوش مزہ و

هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَداً، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی

شیریں ہو کہ اس کے بعد میں کبھی پیاسا نہ ہوں بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بیشک میں ایمان لاتا ہوں حضرت محمدﷺ

ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَعَرِّفْنِی فِی الْجِنانِ وَجْهَهُ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ

پر اور انہیں دیکھا نہیں پس جنت میں مجھے ان کی پہچان کرادینا اے اللہ! پہنچادے حضرت محمدﷺ

عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،

کو میری طرف سے بہت بہت آداب اور سلام۔

اس کے بعد دعائ ام داؤد پڑھے جو کتاب مفاتیح الجنان میں ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہے۔

پھر یہ تسبیح پڑھے کہ جس کے ثواب کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا اور بوجہ اختصا ر ہم نے اس کوبیان نہیں کیا ، وہ تسبیح یہ ہے:

سُبْحانَ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ

پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز سے پہلے ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے بعد ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے ساتھ ہے

وَسُبْحانَ ﷲ یَبْقی رَبُّنا وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

پاک ہے خدا ہمارا رب جو وہ باقی رہے گا جب کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر ایک چیز سے پہلے اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍوَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیز کے بعد اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیزکے ساتھ اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً لاَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے کہ ہمارا رب باقی رہے گاجب کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی پاک ہے نہایت پاکیزہ ہے کہ

یُحْصی وَلاَ یُدْری وَلاَ یُنْسی وَلاَ یَبْلی وَلاَ یَفْنی وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهی وَسُبْحانَ ﷲ

شمار نہیں ہوسکتا سمجھ میں نہیں آتا فراموش نہیں ہوتا پرانا نہیں ہوتا ناپید نہیں ہوتا اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے پاک ہے خدا

تَسبِیحاً یَدُومُ بِدَوامِهِ وَیَبْقی بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ

نہایت پاکیزہ ہے جو ہمیشہ ہے اسکی ہمیشگی سے باقی ہے اسکی بقاکیساتھ جہانوں کے برسوں ہر زمانے کے مہینوں دنیا کے تمام دنوں

الدُّنْیا وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَسُبْحانَ ﷲ أَبَدَ الْاَبَدِ وَمَعَ الْاَ بَدِ مِمّا لاَ یُحْصِیهِ

اور رات دن کی ہر ہر گھڑی میں پاک ہے وہ خدا جو ہمیشہ ہمیشہ ہے ہمیشگی کے ساتھ کہ جس کی ذات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا وہ زمانہ

الْعَدَدُ، وَلاَ یُفْنِیهِ الْاَمَدُ، وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاَ بَدُ، وَ تَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ

گزرنے سے فنا نہیں ہوا اور ہمیشگی اس سے جدا نہیں ہوسکتی اور برکت والا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے۔

پھر کہے :وَالْحَمْدُ ﷲِ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ وَالْحَمْدُ ﷲِ بَعْدَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہ

حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز سے پہلے اور حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے بعد

سُبْحَانَ ﷲ کی بجائےاَلْحَمْدُ ﷲِ کہے اور جب اَحْسَنُ الْخَالِقِین تک پہنچے تو کہےلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ

پاک ہے خدا حمد خدا ہی کے لیے ہے جو بہترین خالق ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک مگر ہر جگہ سُبْحَانَ ﷲ ہے وہاںلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ کہے اور اسکے بعد کہے

جو ہر چیز سے پہلے ہے۔ پاک ہے خدا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

وَﷲ اَکْبَرُ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہ سُبْحٰانَ ﷲ کی بجائے ﷲ اَکْبَرُکہے پھر یہ

سب سے بڑا ہے خدا جو ہرچیز سے پہلے ہے پاک ہے ﷲ خدا بزرگتر ہے

دعا پڑھے جو شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوئی ہےاَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَیَّأ َ۔بعد میں امام زین العابدین علیہ السلام

اے اللہ! جو آمادہ ہؤا اور تیار ہوا

کی یہ دعا پڑھے جو شیخ طوسیرحمه‌الله نے مصباح المتہجد میں ذکر کی ہے:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعٰالَمیٰنَ

اے اللہ! تو ہی وہ خدا ہے جو جہانوں کا رب ہے۔

[آخر میں دعائے عرفہ کی تلاوت فرمائے ۔ اور اپنی حاجات طلب کرے]