آنڈرا ایبوپا مارشن جو کہ ایک عیسائی خاتون ہیں حرم امام علی رضا علیہ السلام میں حاضر ہوئیں اور عیسائیت سے مذہب تشیع کی جانب آگئیں۔

حرم رضوی میں ہنگری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے دین اسلام قبول کر لیا

۱۳۹۷ شمسی سال کے پہلے دن ، ہنگری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے حرم رضوی میں حاضر ہو کر شہادتین کو زبان کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ موسم بہار اور نئے سال کی ابتدا کے ساتھ ؛ آنڈرا ایبوپا مارشن جو کہ ایک عیسائی خاتون ہیں حرم امام علی رضا علیہ السلام میں حاضر ہوئیں اور عیسائیت سے مذہب تشیع کی جانب آگئیں۔

وہ اپنے مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں کہتی ہیں: میں ایک عیسائی پروتستان خاندان میں پیدا ہوئی جو کہ ایک مذہبی خاندان تھا اور نوجوانی سے ہی میرے ذہن میں مسیحیت کے بارے میں بہت سے سوالات جن کے جوابات میرے ذہن میں نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے اس دین کی نسبت متزلزل ہو گئی۔

مارشن نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: میرا خاندان اگرچہ کلیسا میں بہت زیادہ نفوذ رکھتا تھا اور میری تمام چال و چلن عیسائیت کے برخلاف تھیں ، آہستہ آہستہ ان کی جانب سے مطرود ہو گئی اور اسی وجہ سے میں نے ترکی کی جانب سفر مہاجرت کی۔

انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: آٹھ سال تک چھپ کر اسلام کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کرتی رہی، میرا اسلام سے آشنا ہونا مسلمانوں کی ایک مسجد سے شروع ہوا، جب میں نے وہاں پر فرہنگی کام شروع کیا۔

اس نئی مسلمان خاتون کا کہنا تھا: بہت ساری کتابوں کا مطالعہ لیکن ہر چیز کا جواب مجھے اسلام میں ملا، اسلام سے زیادہ سے زیادہ آشنا ہونے کے لئے ترکی استنبولی زبان سیکھی اور مسلمانوں کے ساتھ رابطے کو زیادہ کیا۔

مارشن نے عاشورا اور کربلا کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت زہرا(س) اور حضرت علی(ع) کی مظلومیت باعث بنی ، جسکی وجہ سے اہلبیت (ع) کی محب بنی اور اس مذہب کی طرف مائل ہوئی۔

انہوں نے بتایا: اگرچہ بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا ، لیکن اسلام جیسے انمول موتی تک پہنچنے کے لئے ان سب چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، اگرچہ گھر سے نکال دی گئی؛ لیکن پیغمبر(ص) اور اہلبیت (ع) نے اپنے دامن میں پناہ دی اور میں اپنے گھر والوں کی نسبت اہلبیت(ع) کو زیادہ نزدیک سمجھتی ہوں ۔

ہنگری سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا کہنا تھا: مشہد مقدس آنے سے پہلے حضرت امام علی رضا(ع) کی نسبت زیادہ سے معلومات حاصل کرنے اور ایک رابطہ برقرار کرنے کے لئے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامہ کو دیکھا ۔

آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میری قلبی خواہش ہے کہ اہلبیت(ع) اور حضرت امام علی رضا(ع) کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکوں اور انہیں اپنی زندگی میں بہترین آئیڈئل قرار دوں۔

Ref.: globe.razavi.ir