شب قدر کی اہمیت و فضیلت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿۱﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿۲﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿۳﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ﴿۴﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿۵﴾

جس طرح شب قدر کا ادراک مشکل ہے اسی طرح اس کی منزلت کو سمجھنا بھی دشوار امر ہے جس کی حقیقت کو صرف وہی لو گ بیان کر سکتے ہیں جنہیں اس شب کا ادراک ہو چکا ہو ، کیوں کہ قرآن پیغمبر اکرم (ص) کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : “وما ادراک ما لیلۃ القدر ” اے پیغمبر! آپ کو کیا معلوم شب قدر کیا ہے ؟

 

اس کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ رات “ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ” ھزار مہینہ تریاسی سال بنتے ہیں یعنی ایک رات کی عبادت تریاسی سالوں کی عبادت سے افضل ہے اس کے علاوہ بھی اس کی دیگر فضیلتیں ہیں جن میں سے چند فضیلتیں مندرجہ ذیل ہیں:

 

 ۱۔  قرآن کا نزول

پروردگار عالم کی سب سے باعظمت جامع و کامل کتاب جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے وہ اسی شب میں نازل ہوئی جیسا کہ قرآن گواہی دیتا ہے: “شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن” (ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ) لیکن رمضان کی کس شب میں قرآن نازل ہوا ؟ اس کا بیان دوسری آیت میں ہے ” انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ” ( بیشک!ہم نے قرآن کو بابرکت رات میں نازل کیا ) اور سورہ قدر میں اس بابرکت رات کو اس طرح بیان کیا ” انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ” بیشک! ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے، لہذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ قرآن کے نزول نے بھی اس شب کی عظمت میں اضافہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ قرآن کا یہ نزول دو طرح کا رہا ہے ایک نزول دفعی یعنی ایک بار نازل ہوا۔ شب قدر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر ایک ساتھ نازل ہوا ہے اور دوسرا نزول ، نزول تدریجی ہے جو کہ پیغمبر اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چالیس کی عمر میں بعثت کے دن نازل ہونا شروع ہوا اور آنحضرت کی عمر مبارک کے 63 ویں سال تک نازل ہوتا رہا ہے، جوکہ 23 سال نازل ہوتا رہا ہے۔ یعنی قرآن ایک ساتھ ایک بار شب قدر میں نازل ہوا ہے اور دوسری مرتبہ 23 سال آھستہ آھستہ نازل ہوتا رہا ہے۔

 

۲۔  تقدیر کا معین کرن

اس شب کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ رات با برکت و با عظمت ہے ” لیلۃ العظمۃ”اور قرآن مجید میں لفظ قدر عظمت و منزلت کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت میں ہے ” ما قدروا اللہ حق قدرہ ” انھوں نے اللہ کی عظمت کو اس طرح نہ پہچانا جس طرح پہچاننا چاہئے۔

قدر کے معنی تقدیر اور اندازہ گیری اور منظم کرنے کے ہیں، اس معنی کو بھی اہل لغت نے بیان کیا ہے قرآن و روایات میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ،راغب اصفہانی کہتے ہیں: “لیلۃ القدر ای لیلۃ قیضھا لامور مخصوصۃ “شب قدر یعنی وہ رات جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخصوص امور کی تنظیم و تعیین کے لئے آمادہ کیا ہے، قرآن کریم بھی ارشاد فرماتا ہے ” یفرق کل امر حکیم” ہر کام خداوند عالم کی حکمت کے مطابق معین و منظم کیا جاتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: “التقدیر فی لیلۃ القدر تسعۃ عشر والابرام فی لیلۃ احدیٰ و عشرین والامضاء فی لیلۃ ثلاث و عشرین “انیسویں شب میں تقدیر لکھی جاتی ہے ،اکیسویں شب میں اس کی دوبارہ تائید کی جاتی ہے اور تیئیسویں شب میں اس پر مہر اور دستخط لگائی جاتی ہے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: “یقدر فیھا ما یکون فی السنۃ من خیر او شر او مضرۃ او منفعۃ او رزق او اجل و لذالک سمیت لیلۃ القدر” شب قدر میں جو بھی سال میں واقع ہونے والا ہے سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے نیکی،برائی، نفع و نقصان رزق اور موت اسی لئے اس رات کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔

اللہ نے انسان کو اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ دیا ہے وہ سعادت کی زندگی حاصل کرنا چاہے گا اسے مل جائے گی وہ شقاوت کی زندگی چاہے گا اسے حاصل ہو جائے گی۔

اللہ سے اپنے خطاؤں کے بارے میں دعا اور راز و نیاز کےذریعہ معافی مانگے گا یقینا اس کی تقدیر بدل جائے گی اور امام زماں (ارواحنا فداہ) اس تقدیر کی تائید کریں گے، اور جو کوئی شقاوت کی زندگی چاہے وہ شب قدر میں توبہ کرنے کے بجائے گناہ کرے، یا توبہ کرنے سے پرھیز کرے، تلاوت قرآن، دعا اور نماز کو اھمیت نہیں دے گا، اسطرح اس کے نامہ اعمال سیاہ ہوں گے اور یقینا امام زماں (ارواحنا فداہ) اسکی تقدیر کی تائید کریں گے۔

جو کوئی عمر بھر شب قدر میں سال بھر کے لئے سعادت اور خوشبختی کی تقدیر طلب کرنے میں کامیاب ہوا ہوگا وہ اسکی حفاظت اور اس میں اپنے لئے بلند درجات حاصل کرنے میں قدم بڑھائے گا اور جس نے شقاوت اور بد بختی کی تقدیر کو اختیار کیا ہوا وہ توبہ نہ کرکے بدبختی کی زندگی میں اضافہ کرے گا۔

شب قدر کے بارے میں اللہ نے تریاسی سالوں سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ اس رات کو سلامتی اور خیر برکت کی رات قرار دیا ہے۔ ” سلام ھی حتی مطلع الفجر” اس رات میں صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے اس لئے اس رات میں انسان اپنے لئے دنیا اور آخرت کے لئے خیر و برکت طلب کرسکتا ہے۔

اگر دل کو شب قدر کی عظمت اور بزرگی کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

جس شب کے بارے میں اللہ ملائکہ سے کہہ رہا ہے کہ جاو اور فریاد کرو کہ کیا کوئی حاجت مند، مشکلات میں مبتلا، گناہوں میں گرفتار بندہ ہے جسے اس شب کے طفیل بخش دیا جائے ؟ اگر اس نقطے کی طرف توجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ یہ رات ایک عمر بھر کی مخلصانہ عمل سے افضل ہے،اس بات کو نہیں بھولتے ہیں کہ یہ رات تقدیر لکھنے کی رات ہے، یہی وہ رات ہے جس میں بندہ اللہ کی نظر رحمت کو اپنی طرف جلب کرکے سعادت دنیا اور آخرت حاصل کرسکتا ہے تو یقینا ہمیں شب قدر کے ثواب حاصل ہوں گے، اس لئے ہمیں چاہیئے فراخدلی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں تمام عالم کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ تم اسے بھی عطا کرتے ہو جو تمہیں مانتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جو تمہیں انکار کرتا ہے اس شب کے طفیل ہم سب کو صراط المستقیم کی طرف ھدایت فرما۔

 

۳ ۔ لیلۃ القدر دلیل امامت

شب قدر کو شب امامت اور ولایت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خود قرآن کہتا ہےکہ اس رات میں فرشتے، ملائکہ اور ملائکہ سے اعظم ملک روح بھی نازل ہوتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنا ضروری ہے کہ نازل ہوتے ہیں، نازل ہوئے نہیں۔

کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے : “تنزّل الملائکۃ والروح فیھا” تنزل فعل مضارع ہے، یعنی نازل ہوتے ہیں نازل ہوئے نہیں کہا گیا ہے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کس پر نازل ہوتے ہیں۔ پیغمبر(اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تو آنحضرت پر نازل ہوتے تھے آنحضرت کے بعد کس پر نازل ہوتے ہیں؟

ظاھر سی بات ہے اس پر نازل ہوں گے جو پیغمبر کے بعد پیغمبر کا جانشین ہوگا، جو معصوم ہوگا، جو صاحب ولایت ہو گا، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت حسن مجتبی اور آپ کے بعد حضرت حسین اور آپ کے بعدحضرت علی زین العابدین اور آپ کے بعد حضرت محمد باقر اور آپ کے بعد حضرت جعفر صادق اور آپ کے بعد حضرت موسی کاظم اور آپ کے بعد حضرت علی الرضا اور آپ بعد حضرت محمد جواد اور آپ کے بعد علی النقی اور آپ کے بعد حسن عسکری علیہم السلام اور آپ کے بعد قطب عالم امکان مھدی آخر الزمان (ارواحنافداہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، اور انسانوں کے سال بھر کے مقدرات بیان کرتے ہیں۔

شب قدر امامت اور اس کی بقاء اور جاودانگی پر سب سے بڑی دلیل ہے، متعدد روایات میں وارد ہوا ہے کہ شب قدر ہر زمانے میں امام کے وجود پر بہترین دلیل ہے اس لئے سورہ قدر کو اہلبیت(ع) کی پہچان کہا جاتا ہے،جیسا کہ بعض روایات میں بھی وارد ہوا ہے۔

علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ در حقیقت شب قدر ہر سال آتی ہے اور امر خدا ہر سال نازل ہوتا ہے اور اس امر کے لئے صاحب الامر بھی موجود ہے۔

جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ وہ صاحب الامر کون ہے تو آپ (ع) نے فرمایا : ” انا و احد عشر من صلبی ائمۃ محدثون ” (میں اور میرے صلب سے گیارہ دیگر ائمہ جو محدث ہیں) محدِّث یعنی ملائکہ کو آنکھوں سے نہیں دیکھتے لیکن ان کی آواز سنتے ہیں ۔

اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ شب قدر شب ولایت اور امامت ہے اور جن روایات میں شب قدر کی تفسیر فاطمہ زہرا(س) سے کی گئی ہے ان کا بھی معنیٰ واضح ہے کہ شب قدر ولایت اور امامت کی شب ہے اور امامت و ولایت کی حقیقت فاطمہ زہرا (س) کی ذات گرامی ہے۔

شب قدر امام زمانہ(ارواحنا فداہ)سے گفتگو کی رات ہے،شب قدر شب ولایت یے،شب قدر میں فرشتے امام زمانہ(ارواحنا فداہ) پر نازل ہوتے ہیں،یہ رات قرآن و اہلبیت(علیہم السلام) دونوں کی رات ہے۔

 

۴۔ گناہوں کی بخشش

شب قدر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں گناہگاروں کی بخشش ہوتی ہے لہذا کوشش کریں کہ اس عظیم شب کے فیض سے محروم نہ رہیں، وائے ہو ایسے شخص پر جو اس رات میں بھی مغفرت و رحمت الٰہی سے محروم رہ جائے جیسا کہ رسول اکرم کا ارشاد گرامی ہے : “من ادرک لیلۃ القدر فلم یغفر لہ فابعدہ اللہ” جو شخص شب قدر کو درک کرے اور اس کے گناہ نہ بخشے جائیں اسے خداوند عالم اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے ۔

ایک اور روایت میں اس طرح وارد ہوا ہے “من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ ولا یحرم خیرھا الا محروم” جو بھی شب قدر کے فیض سے محروم رہ جائے وہ تمام نیکیوں سے محروم ہے، اس شب کے فیض سے وہی محروم ہوتا ہے جو خود کو رحمت خدا سے محروم کر لے۔

ایک روایت میں پیغمبر اکرم (ص) سے اس طرح منقول ہے: “من صلّیٰ لیلۃ القدر ایماناً و احتساباً غفر اللہ ما تقدم من ذنبہ “جو بھی اس شب میں ایمان و اخلاص کے ساتھ نماز پڑھے گا خداوند رحمٰن اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے گا۔

شب قدر کے بہت سارے ایسے اعمال ہیں جو انسان کو ذات پروردگار سے قریب کرتے ہیں ان میں سے ایک شب قدر کی فرصت کو غنیمت سمجھنا اور اس سے بھر پور فائیدہ اٹھانا ہے،خداوند متعال نے قرآن کریم میں حضرت رسول اکرم سے مخاطب ہو کر فرمایا :” انّاانزلناہ فی لیلة القدر، وما ادراک ما لیلة القدر” ہم نے قرآن کو شب قدر نازل میں کیا ہے مگر آپ کیا جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے؟

شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس شب میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہو شیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا۔

شب قدر میں توبہ،دعا اور استغفار کی بہت زیادہ تاکید کی گئ ہے۔

اس شب کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل توبہ و استغفار ہے، شب قدر شب توبہ ہے،شب گریہ زاری ہے،شب دعا ہے،یہ رات غیر خدا کی بندگی سے نجات پانے کی رات ہے،شب قدر غنیمت ہیکہ انسان اللہ سے عذر طلب کرے اور اس کی بارگاہ میں پلٹ جائے۔

اگر ہمیں خدا نے ماہ رمضان کے ذریعہ بخشش کا موقع دیا ہے تو ہمیں اس مہینے میں اس کی بارگاہ میں غلطیوں پر معافی مانگنی چاہیئے،اس سے معافی مانگیں کہ کما حقہ اس کی عبادت نہیں کر پائے،یاد رکھیں جو بھی شب قدر جتنے بھی گناہ لے کر پروردگار کی بارگاہ میں دست دعا اٹھا کر اس سے معافی مانگے گا خدا اسے خالی ہاتھ کبھی نہیں پلٹائے گا۔

آپ فرماتے ہیں جب تک زندہ ہیں توبہ و استغفار کے ذریعہ اس سے معافی مانگتے رہیں،کیونکی جتنا زیادہ توبہ و استغفار کریں گے اتنے ہی زیادہ ہمارے گناہ مٹا دیئے جائیں گے،کیوںکہ خداوند متعال نے خود فرمایا ہے:” فَاذْکُرُونی‏ أذْکُرْکُمْ” مجھے یاد کرو میں بھی آپ کو یاد کروں گا۔

 

شب ہای قدر کے صدقہ میں خداوند متعال سے دعا ہکہ ہمارے تمام گناہوں کو معاف کر کے ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔