ڈاکٹر ربیکا ماسٹرٹن: نقاب یا پردہ عورت کو باوقار بناتا ہے

ڈاکٹر ربیکا ماسٹرٹن،  ایک  برطانوی  مسلمان،  مذہبی رہنما،  فلسفی،  لیکچرر، ماہر قرآن  اور ٹیلی  ویژن پیش کنندہ  ہیں۔

ربیکا ماسٹرٹن کی پیدائش جنوبی انگلستان کے ایک چھوٹے سے علاقے میں ہوئی۔  اٹھارہ سال کی عمر میں جاپانی زبان کا مطالعہ کرنے کے لیے لندن میں رہائش پزیر ہونا پڑا۔ بی۔ اے کی ڈگری لندن اسکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن سے جاپانی زبان میں حاصل کی۔ جبکہ ایم-اے شمالی ایشیاء اور افریقن ادب میں کیا۔ اس کے بعد پی-ایچ-ڈی اسلامی باطنی ادب میں کی۔

انہوں نے اپنے پیشہ کا آغاز دانشگاہ بربک لندن سے کیا، بعد میں ایک ایرانی چینل پریس ٹی وی سے وابستہ ہوگئیں۔ انہوں نے ثقافت اور مذہب کے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی۔ بعد ازاں اہل بیت ٹی وی جو ایک انگریزی چینل ہے، اس سے تعلق قائم کر لیا اور تاحال اسی پر اپنا پروگرام پیش کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامک کالج آف لندن میں ماسٹرز کے درجات کو پڑھاتی ہیں۔

ربیکا ماسٹرٹن  کا  مسلمان  ہونے  کا  سفر  بہت روحانی ہے۔ ان  کو  شروع  سے   ہی  مغربی  معا شرہ  اور طرز  زندگی  پسند نہیں  تھا۔ ربیکا ماسٹرٹن  نے  بارہ  سال  پہلے  دائرہ  اسلام  میں داخل ہوئیں  جب وہ  جامعہ  میں  زیر تعلیم  تھیں۔ ایک مشہور  جریدے  کو  انٹرویو  دیتے  ہوئے  انہوں  نے  کہا:

“برطانوی  معا شرہ  چونکہ  عورت  کو  ایک  جنسی  نقطہ  نظر  سے  دیکھتا  ہے، اس  سے  عورت  کی  عزت  مجروح  ہوتی ہے،  نقاب  یا پردہ  عورت  کو  باوقار  بناتا  ہے۔ حبشی  اور  افریقی  مرد  اسلامی  خاندانی  نظام  کو  سب  سے بہترین  جانتے  ہیں،  یہی وجہ  ہے  کہ  اسلام  مغربی  ممالک  میں  سب  سے  تیزی  سے  پھیلنے  والا  مذہب  ہے۔”

ربیکا  نے  اپنے  بارے  میں  اظہار  رائے  کرتے ہوئے کہا:

“اسلام قبول کرنے کے بعد میری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی، میں نے حجاب پہننا شروع کر دیا اور اپنا زیادہ تر وقت اپنی مسلمان بہنوں کے ساتھ گذارتی ہوں، مجھے غیر محرم کے ساتھ میل ملاپ سند نہیں۔”

انھوں  نے  اپنے اس  روحانی  سفر  کا  تذکرہ  ایک  عربی  جریدے  کے   انٹرویو  میں  کیا ہے۔

ربیکا ماسٹرٹن کو مہمان خصوصی کے طور پر دنیا بھر میں پزیرائی ملی۔ انہوں نے اپنی ذہانت اور حاضر دماغی سے کتنے لوگوں کے دل جیت لیے۔ مغرب کے مسلم نوجوان ربیکا ماسٹرٹن کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتے ہیں۔ ربیکا ماسٹرٹن کی تقاریر آگ کی طرح یوٹیوب پر پھیل گئیں۔