محرم الحرام تلوار پرخون کی فتح کا مہینہ

 

افق پر محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی عالم امکان خواہ انس و جن هوں یا حیوانات، جمادات اور نباتات سوگوار ہوتے ہیں اور عالم کا ذرہ ذرہ محزون و مغموم ہوجاتا ہے اور ہر طرف سے گریہ و زاری، ماتم و عزاداری، سینہ زنی و نوحہ خوانی، مرثیہ سرائی اور سوز خوانی کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں، در و دیوار سے عزا و سوگواری کا احساس ہونے لگتا ہے اور شعوری لاشعوری طور پر ہر مخلوق نالہ و شیون کرنے لگتی اور اپنی عظمت کی بقا اور تحفظ کا شکریہ ادا کرتی، انسانیت اپنے عروج و کمال پر نازاں ہوتی، اپنے محسن کا قصیدہ پڑتی اور امام حسین (ع) کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

محرم سرکار سیدالشہداء اور اولیائے الہی کے سید و سردار امام حسین (ع) کی عظیم تحریک اور آپ کے انقلاب کا مہینہ ہے کہ آپ (ع) نے زمانہ کے ظالم و جابر، فاسق و فاجر، انسانیت کے دشمن، درندہ صفت، حیوانیت کے مجسمہ یزید جیسے بے دین اور ناپاک وجود کے خلاف قیام کیا اور اپنے قیام سے انسانیت کو علم و عمل، شرم و حیا، صدق و صفا، طہارت و پاکیزگی، اخلاق و کردارکے زیور سے آراستہ ہونے کی تعلیم دی اور اپنے ایثار و قربانی سے وقت کے ظالم و جابر، فاسد و بدکار حکمرانوں کو ناکامی اور شکست سے دوچار کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رسوا کردیا۔ محرم غم و اندوہ اور حزن و ملال کا مہینہ ہے، محرم قمری بارہ 12 مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے، اور حرمت والے ان مہینوں میں سے ایک ہے کہ جس میں جاہلیت اور اسلام دونوں میں جنگ و جدال ممنوع اور حرام ہے۔ محرم زندگی گزارنے کے مقصد کو عمق اور گہرائی عطا کرتا هے، زندگی کو جلا بخشتا  اور پررونق بناتا ہے، زندگی گزارنے کی فکر کو صحیح سمت دیتا ہے۔ زندگی کا صحیح اور حقیقی مفہوم و معنی بناتا ہے۔ محرم عبودیت اور بندگی کا درس دیتا هے۔ خدا کی الوہیت اور ربوبیت اور اس کی ظرفیت کو اجاگر کرتا ہے۔ محرم توبہ و انابت اور خدا کی جانب رجوع کرنے کی یاد تازہ کرتا، محرم زنگار دلوں پر برائیوں کی پڑی گرد کو صاف کرتا، محرم حقیقت کی جستجو، صحیح طریقہ سے زندگی گزارنے کی چاہت، حیات طیبہ پانے کی خواہش اور محمد و آل محمد (ع) کی موت مرنے اور ان کی سیرت پر چلنے کا مہینہ ہے۔ محرم انسان کو زندگی گزارنے اور مرنے نیز انسانیت کا صحیح حق ادا کرنے کا مہینہ ہے۔ محرم باطل پرستوں اور باطل طاقتوں کے خلاف قیام و جہاد اور انہیں شکست دینے اور دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار کرنے کا مہینہ ہے۔ محرم شمشیر پر خون کی کامیابی اور فتح مظفر کا مہینہ ہے۔ محرم زمانہ کے فاسق و فاجر، ظالم و جائر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور کلمہ حق کی بلندی کا مہینہ ہے۔ محرم انسانیت کا حق واپس لینے باطل کے منہ پر طمانچہ مارنے اور سوئی ہوئی اور خفتہ انسانیت کو زندہ کرنے کا مہینہ ہے۔

اس عظیم ماہ میں عاشور کے دن کا غم انگیز، در بھرا اور المناک واقعہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جو 1400/ سال کے بعد بھی زندہ و تابندہ ہے اور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ باقی ہے۔ اس عظیم کرب انگیز واقعہ کی یاد میں آنسو بہائے جاتے ہیں، ماتم اور سینہ زنی کی جاتی ہے، فریاد و فغاں کی فرش بچھائی جاتی ہے۔

محرم کے مہینہ میں کربلا کے بے آب و گیاہ اور تپتے صحرا میں عاشور کے دن کا یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا واقعہ کہ 1400/ سال سے اب تک بے شمار انسانوں کی تربیت ہوچکی ہے اور بہت سارے لوگ اس مجلس عزا میں شریک ہوکر اپنی زندگی بدل چکے ہیں اور بدلتے رہتے ہیں اور حُر کی مثال پیش کرنے کی عملی تصویر بنتے ہیں۔

اس ماہ کے بارے میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں:

امام سجاد (ع) اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد 40/ برس تک روتے رہے اور عالم یہ تھا کہ دن کو روز رکھتے اور راتوں کو مصلی پر خدا سے راز و نیاز اور عبادتیں کرتے تھے اور جب افطار کے وقت آپ کا غلام غذا حاضر کر کے تناول فرمانے کو کہتا تھا تو فرماتے: “قُتِلَ الحسین جائعاً و عطشاناً” حسین (ع) کو بھوکا اور پیاسا قتل کردیا گیا اور اسی کی تکرار کرتے اور اتنا گریہ کرتے کہ آپ کا کھانا آنسووں سے تر ہوجاتا تھا۔ (لہوف، ص 233)

آٹھویں امام حضرت امام رضا(ع) فرماتے ہیں:

محرم کا مہینہ وہ مہینہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں جنگ و جدال اور قتل و  کشتار  کو حرام جانتے تھے لیکن ہم خاندان عصمت و طہارت کا خون اسی ماہ میں حلال جانا گیا، ہماری ہتک حرمت کی گئی، ہماری عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا گیا، ہماری خیموں میں آگ لگائی گئی اور اس میں جو کچھ تھا سب لوٹ لیا گیا اور ہمارے حق میں رسول خدا(ص) کی حرمت کا ذرہ پاس و لحاظ نہیں کیا گیا۔ امام حسین (ع) کی شہادت کے دن ہماری آنکھوں کو اشکبار کیا، ہمیں غمزدہ بنایا اور ہمارے عزیزوں کو کربلا میں ذلیل و رسوا کیا گیا۔ بلا و مصیبت ہمارا مقدر بنی لہذا گریہ کرنے والے امام حسین (ع) پر گریہ کریں کہ آپ پر رونا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے۔

اور فرمایا:

میرے والد گرامی ماہ محرم میں مسکراتے نہیں تھے اور ہمیشہ آپ پر غم و اندوہ طاری رہتا تھا اور عاشور کا دن آپ کے لئے حزن و ملال، گریہ و زاری، آه و بکا، فریاد و فغاں اور نالہ و شیون کا دن ہوتا تھا اور آپ فرمایا کرتے تھے: اسی دن سرکار سیدالشہداء امام حسین (ع) کو بھوکا اور پیاسا شہید کیا گیا ہے۔ (ترجمہ نفس المہموم، ص 38)

اس ماہ کے بارے میں رہبر فقید حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی (رح) فرماتے ہیں:

محرم ہے؛ اسے ہر حال میں زندہ رکھو کیونکہ ہمارے پاس جو کچھ ہے اسی محرم کی بدولت ہے، یہ مجالس، یہ تبلیغات، یہ انسانیت ساز سارے پروگرام اور ظالم کے خلاف قیام کرنے کے جذبات سب اسی محرم کے مرہون منت ہیں۔ حضرت سیدالشہداء (ع) کی قربانیوں اور شہادت سے آج انسانیت اور اسلام زندہ و باقی ہے۔ اسلامی افکار کی جلوہ گری اسی محرم سے ہے۔ اگر یہ وعظ و نصیحت اور عزاداری و سوگواری کی مجالس نہ ہوتیں تو ہمارا ملک کامیاب نہ ہوتا۔ (مجموعہ مقالات دومین کنگرہ بین المللی امام خمینی و فرہنگ عاشورا)

شیعوں کے تیسرے امام حضرت ابا عبداللہ الحسین (ع) کی شہادت اور قربانی پر غم منانا اور اس کی یاد تازہ کرنا، آپ (ع) پر گریہ و زاری کرنا اور آپ کے غم میں آنسووں کا سیلاب رواں کرنا اور اس عظیم مصیبت کو یاد کرکے فریاد و فغاں کرنا اور اس دلخراش اور جگر فگار واقعہ سے درس حاصل کرنا بہت اہمیت رکھتا اور عبادت شمار ہوتا ہے۔

خداوند عالم ہم سب کو کردار حسینی سے آراستہ کرے اور کربلا والوں کے جذبوں سے سرشار دنیا و آخرت میں عزت عطا کرے۔ (آمین)