چین کے ایک تاجر ہانگ جون چن (Hong Jun Chen) المعروف “رچرڈ” ایام غدیر کے موقع پر شہادتین ادا کرکے دین مبین اسلام اور مذہب حقۂ جعفری قبول کیا۔

ایک شیعہ تاجر نے ایام غدیر کے موقع پر مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی(رح) کی رہائشگاہ میں حاضری دے کر اسلام اور مذہب حقۂ تشیع قبول کیا۔

چین کے ایک سرمایہ کار اور صنعت کار ہانگ جون چن (Hong Jun Chen) المعروف “رچرڈ” ـ جنہوں نے ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں متعدد صنعتیں قائم کی ہیں اور چین میں بھی ان کے کئی کارخانے ہیں ـ نے قم المقدسہ میں مرحوم مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی سید حسین طباطبائی بروجردی (رحمۃاللہ علیہ) کی رہائشگاہ میں حاضر ہوکر شہادتین ادا کرکے دین مبین اسلام اور مذہب حقۂ جعفری قبول کیا اور ولایت امیرالمؤمنین(ع) کے اعلان کے ایام کی مناسبت سے اپنی نام “علی” رکھا۔

آیت اللہ بروجردی نے اس روحانی تقریب میں خالص محمدی اسلام کا تعارف کراتے ہوئے کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند متعال کی ذات پورے عالم وجود کا سرچشمہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ خدا نے اس کائنات کی تخلیق کرنے کے بعد اس کو اپنے حال پر چھوڑا ہو۔ انھوں نے کہا: ایک ہی قوت موجود ہے جس سے ہر زمانے میں عالم وجود کی تمام قوتیں جنم لیتی ہیں اور اس عالم کے تمام واقعات کا سرچشمہ بھی وہی ہے اور وہ واحد قوت صرف اور صرف خداوند متعال ہے۔ * اسلام دین فطرت ہے انھوں نے کہا: اسلام ایسا دین ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور دین اسلام اپنے پیروکاروں کو ایسے تمام نیک اعمال اور فضائل کی دعوت دیتا ہے جو تمام عقلاء کے نزدیک فضیلت اور نیکی شمار ہوتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ پیغمبر خاتم ہیں اور ان کے بعد کوئی پیغمبر نہيں آئے گا اور رسول اللہ(ص) نے خداوند متعال کے حکم سے اپنے لئے جانشینوں کو ائمۂ معصومین کے عنوان سے نصب فرمایا ہے تاکہ انسان اور خدا کے درمیان واسطے اور رابطے کا کردار ادا کریں۔ آیت اللہ بروجردی نے کہا: یوم غدیر جانشینی کے اعلان کا دن ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بارہویں جانشیں نظروں سے اوجھل ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ایک دن خدا کے حکم سے ظہور فرمائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ کوئی دین بھی اسلام کی طرح کامل نہيں ہےعلی (ہانگ جون چن) نے اپنے قبول اسلام کے بارے میں کہا: چین میں متعدد ادیان و مذاہب پائے جاتے ہیں اور افراد مختلف ادیان و مذاہب کی پیروکار ہیں اور ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ میرا جب ایرانی دوستوں کے ساتھ تعلق ہوا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ان ادیان میں سے کوئی بھی اسلام کی طرح اور اسلام کا کوئی مذہب تشیع کی طرح، کامل نہیں ہے اور دین اسلام بہت شفاف اور روشن ہے۔

شہادتین ادا کرتے وقت ایک خاص کیفیت مجھ پر طاری تھی انھوں نے ادائے شہادتین کے وقت اپنے احساسات و جذبات کے بارے میں کہا: شہادتین ادا کرتے وقت ایک خاص قسم کی کیفیت مجھ پر طاری تھی جو قابل بیان نہيں ہے؛ محسوس کررہا تھا کہ خداوند متعال سے توانائی حاصل کررہا ہوں۔ نو مسلم علی نے مزید کہا: میں قبول اسلام و مذہب تشیع اور اس کے احکام پر عملدرآمد کو سعادت کے حصول اور اپنے اہداف کا واحد راستہ سمجھتا ہوں۔ انھوں نے کہا: آج سے میری کوشش ہوگی کہ میرے تمام افعال اور اعمال اسلام اور مذہب تشیع کے عین مطابق ہوں اور خالص محمدی اسلام جو بھی حکم دیتا ہے میں اس پر عمل کروں اور ایک حقیقی مسلمان اور حقیقی شیعی بنوں گا۔