جشن ظہور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام عالم اسلام کو بہت بہت مبارک ہو

اسم گرامی : علی ابن الحسین (ع)

لقب : زین العابدین

کنیت : ابو محمد

والد کا نام : حسین (ع)

والدہ کانام : شہربانو یا شاہ زناں

تاریخ ولادت : ۵ / شعبان دوسری روایت کے مطابق ۷/ شعبان ۳۸ھـ

جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵/ سال

عمر : ۵۷/ سال

آپ کی ولادت بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الاول اور بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الثانی کو ہوئی جبکہ سالِ ولادت 38ھ تھا اور اس وقت ان کے دادا حضرت علی عليہ سلام عالمِ اسلام کے خلیفہ تھے۔ آپ کا نام آپ کے دادا کے نام پر علی رکھا گیا جبکہ کنیت ابوالحسن اور ابوالقاسم رکھی گئی۔ ولادت کے چند دن بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد آپ کی خالہ گیہان بانو جو محمد بن ابی بکر کی زوجہ تھیں اور انہوں نے محمد بن ابی بکر کے انتقال کے بعد شادی نہیں کی تھی، نے آپ کی پرورش کی۔ دو سال کی عمر میں آپ کے دادا حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام عليہ سلام کو شہید کر دیا گیا

آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھاعلامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔ سجدوں کی کثرت سے آپ کا نام سید الساجدین اور سجاد پڑ گیا تھا۔ علامہ ابن حجر مکی نے لکھا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کے سامنے آپ کی برائی کی مگر آپ خاموش رہے تو اس شخص نے کہا کہ اے علی ابن الحسین میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ:

“جاہلوں کی بات کی پروا نہ کرو اور میں اس پر عمل کر رہا ہوں۔ ایک شامی نے حضرت علی عليہ سلام کو آپ کے سامنے گالیاں دیں تو آپ نے فرمایا اے شخص تو مسافر معلوم ہوتا ہے اگر کوئی حاجت ہےتو بتا۔ اس پر وہ شخص سخت شرمندہ ہو کر چلا گیا۔”

سن 57 ھ میں آپ کی شادی آپ کے چچا حضرت حسن بن علی بن ابو طالب علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں جن میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اورحضرت زید شہید مشہور ہیں۔

واقعہ کربلا 10 محرم سن 61 ھ کو پیش آیا 28 رجب سن 60 ھ کو آپ (ع) اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے ھمراہ مدینہ سے مکہ تشریف لائے اور 8 ذی الحجہ سن 60 ھ کو جب امام حسین علیہ السلام حج کو عمرہ سے بدل کر عازمِ سوئے کربلا ہوئے تو امام سجاد علیہ السلام بھی آپ کے ھمراہ تھے۔

کربلا آنے کے بعدازنِ خدا سے آپ انتہائی بیمار ہو گئے یہاں تک کہ 10 محرم کو غشی کی حالت طاری تھی اس لیے اس قابل نہ تھے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت پر فائز ہوتے۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے61 ھ میں عاشور کے دن امامت کی عظیم ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر سنبھال لیں ۔ 10 محرم کی شام کویزیدی فوج نے اہلیبیت علیہ السلام کےتمام خیموں کو آگ لگا دی تمام بییبیاں ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ میں منتقل ہوتی رہیں بالآخرامام وقت کے حکم پر اپنے آپ کو بچانے کی خاطر بیبیاں خیموں سے باہر آگئیں اس کے بعد تو ظلم کی انتہا ہوگئی اور تمام بیبیوں کی چادریں چھین لی گئیں۔ 11 محرم کو آپ کے اہلِ حرم کو بے کجاوہ اؤنٹوں پرسوار کیا گیا اور امام (ع) کے گلے میں لوہے کاطوق اور ہاتھوں میں ھتکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر پہلے کوفہ اور بعد میں دمشق روانہ کیا گیا۔ تمام شہداء بشمول امام حسین علیہ السلام کے سر نیزوں کی نوکوں پر ساتھ روانہ کیے گئے۔ خاندانِ رسالت کا یہ قافلہ 16 ربیع الاول سن 61 ھ کو دمشق پہنچا اور عورتوں اور بچوں کو رسیوں میں بندھا ہوا دربارِ یزید میں پیش کیا گیا

ایک سال کی قید و صعوبت کی مشکلات سہ کر آپ 8 ربیع الاول سن 62 ھ کو مدینے واپس تشریف لائے اور تمام عمر خاندانِ رسالت کی شہادت اور نبی (ص) کی آل کی بازارِ شام اور کوفہ میں کی گئی بے حرمتی پر گریہ کرتے رہے۔ آپ کی زیادہ تر زندگی عبادت اور گریہ میں گزری وہ تمام ارشادات جو آپ (ع) کے دہن مبارک سے جاری ہوئے ، وہ اعمال جو آپ(ع) نے انجام دیئے وہ دعائیں جو لب مبارک تک آئیں وہ مناجاتیں اور راز و نیاز کی باتیں آج صحیفہ کاملہ کی شکل میں موجود ہیں۔ جب امام علیہ السلام سے پوچھا جاتا کہ آپ کو کہاں پر زیادہ مصیبت کا سامنا کرنا پڑا آپ آہ بھرتے اورفرماتے الشام ، الشام ، الشام۔ آپ (ع) کو اس بات کا سب سے زیادہ قلق تھا نبی زادیوں کو سر برہنہ فاسق و فاجر یزید معلون کے دربار میں کھڑا ہونا پڑا تھا۔

آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ:

”اے لوگوجومجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پرپیاسا ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔“

دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:

”۔ ۔ ۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔ ۔ ۔“

یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تویزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے،چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں،اگرچہ کہ اذان کا وقت تھا نہ نماز کا مگر یزید کے حکم پر اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا’۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔

اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔آپ ربیع الاول 62 ھ کو مدینہ واپس پہنچے۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پہنچے تو قبر مطہر پرگال رگڑ کر چند اشعار پڑھ کر فریاد پیش کی جن کا ترجمہ یوں ہے:

” میں آپ سے فریاد کرتا ہوں اے نانا۔ اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر آپ کا محبوب ‘حسین’ شہید کر دیاگیا اور آپ کی نسل تباہ و برباد کر دی گئی۔ اے نانا میں رنج و غم کا مارا آپ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے قید کیا گیا اور میرا کوئی حامی اور مدافعت کرنے والا نہ تھا۔ اے نانا ہم سب کو اس طرح قید کیا گیا جیسے لاوارث کنیزوں کو قید کیا جاتا ہے۔ اے نانا ہم پر اتنے مصائب ڈھائے گئے جن کو انگلیوں

پر گنا نہیں جا سکتا“۔

مروان ابن الحکم کے مرنے کے بعدسن 65ھ میں عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا اس نےحجاج بن یوسف کو حجاز کا گورنر بنا دیا کیونکہ حجاج نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کرکے حجاز پر قبضہ کیا تھا۔ حجاج نے کعبہ پر سنگ باری کی تھی اور اسے تباہ کر دیا تھا حتی کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا تھا کہ حضرت علی ابن الحسین کو گرفتار کر کے شام پہنچا دیا جائے چنانچہ اس نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر مدینہ سے باہر ایک خیمہ میں رکھوایا۔ علامہ ابن حجر مکی کے مطابق عبدالملک بن مروان کو کچھ لوگوں نے سمجھایا کہ حضرت علی ابن الحسین خلافت سے کوئی غرض نہیں رکھتے اس لیے انہیں نہ چھیڑا جائے۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو پیغام دیا کہ بنی ہاشم کو ستانے اور ان کا خون بہانے سے پرہیز و اجتناب کرو کیونکہ بنی امیہ کے اکثر بادشاہ انہیں ستا کر جلد تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں حجاج نے چھوڑ دیا اور عبدالملک بن مروان کی زندگی میں زیادہ تنگ نہ کیا گیا۔جب حجاج نے کعبہ کو تباہ کیا اور اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو حجر اسود کو نصب کرنے کا مسئلہ ہوا کیونکہ جو کوئی بھی اسے نصب کرنا چاہتا تھا تو حجر اسود متزلزل اور مضطرب رہتا اور اپنے مقام پر نہ ٹھہرتا۔ بالآخر حضرت علی ابن الحسین زین العابدین نے اسے بسم اللہ پڑھ کر نصب کیا تو بخوبی نصب ہو گیا۔

اگرچہ آپ گوشہ نشین تھے اور خلافت کی خواہش نہ رکھتے تھے مگر حکمرانوں کو ان کے روحانی اقتدار سے بھی خطرہ تھا اور خوف تھا کہ کہیں وہ خروج نہ کریں، چنانچہ 95 ھ میں ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دے دیا ، امام مظلوم حضرت علی ابنِ حسین ابنِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام 25 محرم سن 95 ھ کو درجۂ شہادت پر فائزہوئے۔ آپ کی تجہیز و تکفین آپ کے فرزند اور پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے کی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں امام حسن ابنِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کے پہلو میں کی گئی