شهادت امام ھادی علیہ السلام

خلاصہ:امام ھادی علیہ السلام
ولادت:15 ذی الحجہ ، 212 ھ
نام:علی ابن محمد
والد کا نام :محمد ابن علی
والدہ کا نام :بی بی سمانہ
لقب :تقی ، ھادی
کنیت ابوالحسن ثالث
مدت امامت :33سال
شھادت:3رجب ، 254 ھ

 

امام علي ابن محمد(علیہ السلام)کہ جو معروف ہیں امام  هادي اور امام نقي کے نام سے ،آپ شیعوں کے دسویں امام ہیں آپ رجب کی تین تاریخ شھید ہوئے اور ایک روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی کو شھید ہوئے البتہ شھادت کی جگہ عراق کا شھر سامرا ہے۔(1)
امام علي النقي(علیہ السلام) کی امامت میں بنی عباس میں سے 6 خلیفہ عباسی گزرے ہیں کہ جن کے نام یہ ہیں : معتصم، واثق، متوكل، منتصر، مستعين و معتز.
ان میں سے بعض کا رویہ بہت سخت تھا اور بعض  کا مناسب تھا لیکن خلافت کے معاملے میں سب کا نظریہ ایک ہی تھا۔
ان خلفاء میں سے متوكل عباسي ، کہ جو عباسیوں کا دسواں خلیفہ تھا  اس کی دشمنی واضح  تھی اور یہ کسی صورت میں بھی اہل بیت  (علیھم السلام) میں سے کسی کو بھی قبول نہیں کرتا تھا اور اس کے مظالم بھی ہر ایک سے جدا تھے اس نے ایسے ایسے مظالم کیے کہ جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیے تھے حتی یہاں تک کہ اس نے حکم دیا کہ اہل بیت (علیھم السلام) کی مزارات کو منہدم کیا جائے اور امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مطہر کے بارے میں حکم دیا کہ اسے مٹا کر اس جگہ پر زراعت کی جائے اور وہاں پر کسی قسم کا نشان نہ چھوڑا جائے ۔(2)
اس کی سازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے 243 ق میں   امام علی النقی (علیہ السلام) کو اپنے وطن مدینہ منورہ سے ہمیشہ کے لیے سامرا بلوایا  لیا ۔(3)

امام علي النقي(علیہ السلام)کو 11 سال عباسیوں کے پایتخت سامرا میں ایک محلہ کہ جسے عسکر کہتے تھے اور یہ فوجی ائیریا تھا اس جگہ پر اس لیے رکھا گیا تاکہ کسی کو ان سے ملنے نہ دیا جائے   ایک روایت کے مطابق 3 رجب اور ایک روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی کو  معتز عباسی نے اپنے بھائی  معتمد عباسی کے ہاتھوں مسموم کر دیا جب امام علیہ السلام کو شھید کیا گیا تب آپ کے بیٹے امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے علاوہ آپ کے پا س کوئی نہ تھا امام حسن عسکری (علیہ السلام) غربت میں بابا کی موت کو دیکھ کر بہت روئے اور پھر خود غسل و کفن دیا بعض نے جب امام کو غریبان چاک دیکھا تو سوال کیا آپ نے ایسا کیوں کیا ؟
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :کیا تم دین خدا کو جانتے ہو ؟
پھر فرمایا:حضرت موسی ابن عمران نے اپنے بھائی ہارون کی موت پر گریبان چاک کیا تھا ۔ (4)
شھادت کی خبر جیسے ہی اہل بیت عصمت و طھارت (علیھم السلام) کے چاہنے والوں تک پہنچی تو لوگ جمع ہو گئے اور امام کو اپنے ہی گھر میں دفن کر دیا گیا ۔(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے جات
1_ الارشاد (شيخ مفيد)، ص 649؛ منتهي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج2، ص 384.
2_ منتهي الآمال، ج2، ص 383.
3_ همان، ص 377 و الارشاد، ص 646.
4_ منتهي الآمال، ج2، ص 385.
5_  الارشاد، ص 635؛ كشف الغمه (علي بن عيسي اربلي)، ج3، ص 229؛ منتهي الآمال، ج2، ص 361؛ المستجاد (علامه حلي) ص 216؛ الكافي (شيخ كليني)، ج1، ص 497.