مستبصرین – مرتضیٰ صلواتی (پارٹ 1)

 

بین الاقوامی ادارہ استبصار کی رپورٹ کے مطابق، یہ تحریر "شہید مرتضیٰ صلواتی” کی زندگی سے ماخوذ ہے، جو اُن کی خود نوشت کتاب "تب میں شیعہ ہوا” سے مرتب کی گئی ہے۔

شہید مرتضیٰ صلواتی ایک کرد مستبصر (حق کی تلاش میں شیعہ ہونے والے) تھے، جن کی حضرت امام مہدیؑ کے بارے میں جستجو نے اُن کے دل میں استبصار کی پہلی چنگاری روشن کی۔ یہ تلاش ایک ایسے راستے پر لے گئی جو آخرکار شہادت پر ختم ہوا۔

 

نام: مرتضیٰ صلواتی

جائے پیدائش: صلوات آباد / سنندج / کردستان

تاریخ پیدائش: ۱۹۷۸

تاریخ شہادت: ۲۰۱۲ / نامعلوم

والد کا نام: محمد علی

تعلیم: حوزوی (دینی مدرسہ)

 

میری پیدائش ۱۹۷۸ میں صوبہ کردستان کے شہر سنندج کے گاؤں صلوات آباد میں ایک شافعی مکتب فکر رکھنے والے خاندان میں ہوئی۔ میرے والدین نے میرا نام مرتضیٰ رکھا۔

میں ایک دیہاتی شافعی خاندان میں پرورش پایا (شافعی، اہل سنت کے چار اماموں میں سے ایک امام کے پیروکار ہوتے ہیں)۔ میں، اپنے والد، والدہ اور بھائیوں کی پیروی کرتے ہوئے—بغیر کسی ذاتی رائے کے—اہل سنت میں شامل تھا۔ اپنے مذہب کے بارے میں جو کچھ بھی جانتا تھا، وہ سب کچھ میں نے اپنے خاندان، ہم مذہب لوگوں اور آبا و اجداد سے سنا یا ان کے کردار و عمل میں دیکھا تھا، اور میں اُسی راہ پر قائم تھا۔

لیکن مجھے مکتب تشیع (شیعہ مذہب) کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، کیونکہ نہ میں نے خود کو کبھی جاننے کی اجازت دی، اور نہ ہی یوں کہوں کہ مجھے اس بارے میں جاننے کا کوئی شوق تھا۔

کیونکہ کچھ شدت پسند متعصب افراد کی باتوں نے میرے ذہن میں جو خیالات بھر دیے تھے، اُن کی وجہ سے میرے دل میں شیعوں کے لیے ایک قسم کی نفرت بھی موجود تھی۔

لیکن میں نے سن رکھا تھا کہ شیعہ ایک شخصیت کے منتظر ہیں جن کا نام "مہدی” ہے، جو ایک دن دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

اس بارے میں میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے جن کے جوابات میرے پاس نہیں تھے! (جیسے کہ اُن کی طویل عمر، زندہ ہونے، قدرت وغیرہ)

سال کے مختلف اوقات میں، ہمارے ہاں کچھ حنفی مکتب فکر کے مبلغین آیا کرتے تھے۔ وہ زاہدان اور صوبہ سیستان و بلوچستان کے دوسرے شہروں سے آتے اور ہماری مسجد میں تبلیغ کرتے تھے۔

یہ مبلغین اپنے ساتھ کچھ تحائف لاتے تھے اور اُنہیں اُن نوجوانوں اور بچوں میں انعام کے طور پر تقسیم کرتے تھے جو اُن کے دروس اور باتوں کو جلدی یاد کر لیتے۔

ان انعامات کی وجہ سے نوجوان زیادہ تر اُن کے درس و گفتگو کی محفلوں کی طرف راغب ہو جاتے تھے۔

ایک رات ہم تمام دوستوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد میں رات گزاریں تاکہ اُن ہی مبلغین کی صحبت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس محفل کے دوران کئی سوالات اٹھائے گئے۔ میں، ایک حقیر بندہ، نے ایک سوال کیا جو میرے لیے مکتب تشیع کی تحقیق و جستجو کی پہلی چنگاری بنا۔

سوال یہ تھا: امام زمانہ کون ہیں؟ کیا شیعہ جو کچھ مہدی کے بارے میں کہتے ہیں، وہ سچ ہے؟

لیکن جواب میں مجھے اُس عظیم ہستی کی شان میں ہر طرح کی گستاخی سننے کو ملی، سوائے میرے سوال کا کوئی معقول جواب ملنے کے۔

آخرکار مجھے کچھ بے بنیاد اور فضول دلائل دیے گئے، جن میں ایک یہ تھا:

"اگر آخرالزمان میں کوئی امام یا مصلح آئے گا تو وہ صرف عیسیٰ ابن مریمؑ ہوں گے، بس! تم بھی ایسے بے فائدہ سوالات سے پرہیز کرو اور اپنا وقت اور ذہن ایسی باتوں سے آلودہ مت کرو۔”

 

چونکہ مجھے کوئی درست جواب نہیں ملا، اس لیے میں نے آئندہ ایسے سوالات پوچھنے سے گریز کیا۔

 

جاری رہے گا…

اگلا حصہ

مستبصرین – مرتضیٰ صلواتی (پارٹ 2)