“ممی تتم” بحرین کی ۳۸ سالہ سنی مذہب خاتون، شیعہ مذہب قبول کر کے اپنا نام فاطمہ زہرا منتخب کیا۔

بحرین کی ۳۸ سالہ سنی مذہب خاتون ’’ ممی تتم‘‘ نے حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ ’’امور زائرین غیر ایرانی‘‘ میں منعقد مراسم کے دوران شیعہ مذہب قبول کر کے اپنا نام فاطمہ زہرا منتخب کیا۔

حرین کی ۳۸ سالہ سنی مذہب خاتون ’’ ممی تتم‘‘ نے حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ امور زائرین غیر ایرانی میں منعقد مراسم کے دوران شیعہ مذہب قبول کر کے اپنا نام فاطمہ زہرا منتخب کیا۔اس خاتون نے شیعہ مذہب قبول کرنے کے بارے میں بتایا: قرآن اور ائمہ اطہار(ع) سے متمسک ہو کر شیعہ مذہب کے بارے میں تحقیق کرنے سے میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ شیعہ مذہب کامل ترین مذہب ہے کہ جس کے تمام فرامین و دستورات علمی بنیادوں پر قائم ہیں اور یہ مذہب انسان کو کمال و سعادت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔اس خاتون نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ ایک ایرانی دوست کے ذریعے اہلبیت اطہار(ع) کی سیرت سے آشنا ہوئی کہا: میں ہمیشہ سے یہ آرزو رکھتی تھی کہ حرم امام رضا(ع) کی زیارت کروں۔ اس سفر پر میں اپنی ایرانی دوست کے ساتھ مشھد پہنچی ہوں اور امام بزرگوار کے حرم میں داخل ہوتے ہی ان کی عظمت و شان و شوکت کو دیکھ کر میرا باطن متغیر ہو گیا اور میں نے وہیں پر یہ ارادہ کر لیا کہ میں شیعہ ہو جاوں گی۔اس مراسم کے اختتام پر حرم رضوی (ع) کی طرف سے ایک جلد کلام اللہ مجید اور اصول عقائد سے متعلق کتابیں وغیرہ انہیں ہدیہ کے طور پر دی گئیں۔